برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxiii

روز سے سمجھا جائے گا کہ وہ پیشگوئی جو اس کے حق میں چھپوائی گئی تھی کہ وہ کافر کہنے سے توبہ کرے گا پوری ہو گئی۔‘‘ (سچائی کا اظہار۔روحانی خزائن جلد ۶صفحہ۸۲) اور قولی لحاظ سے اس وقت پوری ہوئی۔جب مولوی محمد حسین بٹالوی نے حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ کے زمانہ میں ضلع گوجرانوالہ کے منصف لالہ دیو کی نندن کے روبرو عدالت میں حلفی شہادت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو مسلمان فرقوں میں سے شمار کیا۔سچائی کا اظہار ماہ مئی ۱۸۹۳ء میں آپؑ نے رسالہ سچائی کا اظہار شائع کیا۔اس رسالہ میں حضورؑ نے پادری ڈپٹی عبداﷲ آتھم رئیس امرتسر کا بشرط مغلوبیت اسلام لانے کا اقرار نا مہ درج فرمایا۔اور ڈاکٹر کلارک کے اشتہار مرقومہ ۱۲؍مئی ۱۸۹۳ء کا جو بطور ضمیمہ ’’نور افشاں‘‘ لدھیانہ شائع ہوا تھا ذکر فرمایا۔اس اشتہار میں ڈاکٹر کلارک نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مباحثہ سے بچنے کے لئے مسلمانان جنڈیالہ کو اس طرف توجہ دلائی کہ آپ نے جسے اپنا پیشوا مقرر کیا ہے اس کو تو علمائے اسلام کافر اور خارج از اسلام قرار دیتے ہیں اور اس کے جنازہ کو بھی جائز نہیں سمجھتے اور اشاعۃ السنہ کا حوالہ دیا۔مگر مسلمانانِ جنڈیالہ کی طرف سے میاں محمد بخش صاحب نے انہیں لکھا کہ ہم ایسے مولویوں کو خود مفسد سمجھتے ہیں جو ایک مسلمان مؤید اسلام کو کافر ٹھہراتے ہیں۔نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا کہ ’’تمام مستند علماء اسلام جن کو خدا تعالیٰ نے علم و عمل بخشا ہے اور نورِ فراست ایمانیہ عطا کیا ہے وہ میرے ساتھ ہیں اور اس وقت چالیس کے قریب ہیں اور فریقِ ثانی کے ساتھ اکثر ایسے لوگ ہیں جو صرف نام کے مولوی اور علمی اور عملی کمالات سے تہیدست ہیں۔‘‘ (سچائی کا اظہار۔روحانی خزائن جلد ۶صفحہ۷۴) مزید برآں حضورؑ نے اس امر کے ثبوت کے لئے علمائے حرمین میں سے تین فاضل بزرگوں کے خطوط بھی شائع کئے جنہوں نے آپؑ کے دعویٰ کی تصدیق کی تھی اور اس رسالہ میں وہ اشتہار بھی درج فرمایا جس میں آپؑ نے عبدالحق غزنوی کو جس نے خود مباہلہ کے لئے درخواست کی تھی اور دوسرے علماء کو بھی اس کے ساتھ مباہلہ میں شریک ہونے کی دعوت دی۔