برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxi of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxi

’’اگر کوئی وحئ نبوت کا منکر ہو اور یہ کہے کہ ایسا خیال تمہارا سراسر وہم ہے تو اس کے منہ بند کرنے والی بجز اس کے نمونہ دکھلانے کے اور کون سی دلیل ہو سکتی ہے ؟ ( برکات الدعاء۔روحانی خزائن جلد ۶صفحہ ۲۵) اور دُعا کے اثر کا ثبوت دینے کے لئے آپ نے تحریر فرمایا:۔’’اگر سید صاحب اپنے اس غلط خیال سے توبہ نہ کریں اور یہ کہیں کہ دعاؤں کے اثر کا ثبوت کیا ہے تو میں ایسی غلطیوں کے نکالنے کے لئے مامور ہوں۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی بعض دُعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت سید صاحب کو اطلاع دوں گااور نہ صرف اطلاع بلکہ چھپوا دوں گا مگر سید صاحب ساتھ ہی یہ بھی اقرار کریں کہ وہ بعد ثابت ہو جانے میرے دعویٰ کے اس غلط خیال سے رجوع کریں گے۔‘‘ ( برکات الدعاء۔روحانی خزائن جلد ۶صفحہ۱۲) پھر اس رسالہ کے آخر میں آپ نے پنڈت لیکھرام کے متعلق اپنی ایک قبول شدہ دُعا کا بھی ذکر کر دیا۔چنانچہ فارسی نظم میں آپ نے سرسید احمد خان مرحوم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔از دُعا کن چارۂ آزار انکارِ دُعا چوں علاجِ مے زمے وقتِ خمار و التہاب اے کہ گوئی گر دعاہا را اثر بودے کجاست سوئے من بشتاب بنمائیم ترا چوں آفتاب ہاں مکن انکار زیں اسرار قدر تہائے حق قصّہ کوتاہ کن بہ بیں از ما دُعائے مستجاب ( برکات الدعاء۔روحانی خزائن جلد ۶صفحہ۳۳) چنانچہ سید مرحوم کی زندگی میں ہی پنڈت لیکھرام کی ہلاکت سے متعلقہ پیشگوئی آفتاب نیمروز کی مانند پوری ہو گئی اور موافق و مخالف نے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی شہادت دی۔دوسرے رسالہ ’’ تحریر فی اصول التفسیر‘‘ میں سرسید مرحوم نے اپنے دوست حریف سے تفسیر کے اصول مانگے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ خدمت بھی میں ہی کر دیتا ہوں۔کیونکہ بھولے کو راہ بتانا سب سے پہلے میرا فرض ہے۔آپؑ نے تفسیر کے لئے سات معیار تحریر فرما کر لکھا کہ سید صاحب کی تفسیر ان ساتوں معیاروں سے اکثر مقامات میں محروم و بے نصیب ہے۔