برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xx of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xx

صریح مخالف تھیں۔مثلاً یہ کہ انہوں نے لفظی یا خارجی وحی اور وجود ملائکہ اور استجابت دعا وغیرہ کا انکار کیا۔وجود ملائکہ اور وحی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتاب ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ کے ساتھ ان کے خیالات کا ردّ فرمایا ہے اور ملائکہ کے وجود اور اُن کے کاموں پر جس تفصیل کے ساتھ اس میں بحث کی ہے اس کی نظیر متقدمین کی کتب میں بھی نہیں پائی جاتی۔یہ ثابت کرنے کے لئے کہ دعا کی حقیقت بجز اس کے کچھ نہیں کہ اضطرار کی جگہ صبر و استقلال کی کیفیت کا پیدا ہو جانا جو لازمۂ عبادت ہے یہی دُعا کا مستجاب ہونا ہے سرسید مرحوم نے ایک رسالہ الدعاء والاستجابۃ لکھا۔چونکہ دعا عبادت کا مغز تھی اور اس کے بغیر عبادت بے معنی چیز ٹھیرتی تھی اور اس کی قبولیت اور اس کے اثر اور خارجی وحی کے انکار سے اﷲ تعالیٰ کے ایک لاکھ سے زائد انبیاء اور کئی کروڑ اولیاء کی شہادت کی تکذیب لازم آتی تھی اور ان کے اکثر معجزات اور کرامات کی اصل اور منبع بھی دعاؤں کی قبولیت ہی تھی اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سرسیّد مرحوم کے اس رسالہ کے جواب میں رسالہ برکات الدعاء لکھا۔جس میں آپ نے اُن کے پیش کردہ دلائل کو معقولی اور منقولی رنگ میں ردّ کیا۔اور خارجی وحی اور دعا کی قبولیت کے متعلق اپنا تجربہ پیش کرتے ہوئے فرمایا:۔’’میں نے دیکھا ہے کہ اس وحی کے وقت جو برنگِ وحی ولایت میرے پر نازل ہوتی ہے۔ایک خارجی اور شدید الاثر تصرف کا احساس ہوتا ہے۔اور بعض دفعہ یہ تصرف ایسا قوی ہوتا ہے کہ مجھ کو اپنے انوار میں ایسا دبا لیتا ہے۔کہ میں دیکھتا ہوں کہ مَیں اس کی طرف ایسا کھینچا گیا ہوں کہ میری کوئی قوت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اس تصرف میں کھلا اور روشن کلام سُنتا ہوں۔بعض وقت ملائکہ کو دیکھتا ہوں (نوٹ حاشیہ میں۔صرف اتنا ہی نہیں کہ ملائک بعض وقت نظر آتے ہیں بلکہ بسا اوقات ملائک کلام میں اپنا واسطہ ہونا ظاہر کردیتے ہیں۔منہ) اور سچائی میں جو اثر اور ہیبت ہوتی ہے مشاہدہ کرتا ہوں۔اور وہ کلام بسا اوقات غیب کی باتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔اور ایسا تصرف اور اخذخارجی ہوتا ہے۔جس سے خدا تعالیٰ کا ثبوت ملتا ہے۔اب اس سے انکار کرنا ایک کھلی کھلی صداقت کا خون کرنا ہے۔‘‘ ( برکات الدعاء۔روحانی خزائن جلد ۶صفحہ ۲۶) اور فرمایا:۔