برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxii of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxii

الغرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس فرقہ کی جن کے قائد سرسید مرحوم تھے ان آراء زائفہ اور خیالاتِ باطلہ کا ردّ فرمایا جو فلسفۂ مغرب سے متأثر ہو کر اور آیاتِ قرآنیہ کی دور از کار تاویلات کرکے انہوں نے اختیار کئے تھے۔اگرچہ وہ اپنے خیال میں اسلام کو دشمنوں کے حملوں سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ناواقفی سے درحقیقت وہ اسلام کی جڑ پر تبرچلا رہے تھے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک طرف ایسے مسلمانوں کو ان کی غلطیوں پر متنبہ کیا اور دوسری طرف دشمنانِ اسلام کو روحانی مقابلہ کے لئے للکارا اور اسلام کی صداقت اور قرآن مجید کا کلامِ الٰہی ہونا بدلائل عقلیہ و نقلیہ ثابت کیا۔حجّۃ الاسلام ’’برکات الدعاء ‘‘کے بعد آپؑ نے اپریل۱۸۹۳ء میں رسالہ حجّۃ الاسلام شائع کیا۔اس رسالہ میں حضورؑ نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک اور بعض دوسرے عیسائی صاحبان کو اس عظیم الشان دعوت کے لئے بلایا کہ دُنیا میں زندہ اور بابرکت اور اپنے اندر آسمانی روشنی رکھنے والا مذہب صرف اسلام ہے جس کے ثبوت کے نشان اب بھی اس کے ساتھ ایسے ہی ہیں جیسے کہ پہلے تھے۔اور عیسائی مذہب تاریکی میں پڑا ہوا ہے اور زندہ مذہب کی علامتیں اُس میں نہیں پائی جاتیں۔اور ۲۲؍مئی۱۸۹۳ء کو جو مباحثہ ہونے والا تھا اس کی ضروری شرائط بھی اس رسالہ میں درج کر دی گئی ہیں اور آئندہ کے لئے دونوں مذہبوں میں قطعی فیصلہ کرنے کے لئے کہ اِن میں سے کون سا مذہب سچّا اور زندہ ہے۔مباحثہ کے علاوہ مباہلہ کرنے اور نشان دکھانے کی بھی عیسائیوں کو دعوت دی گئی ہے اور وہ خط و کتابت بھی درج کی گئی ہے جو مسلمانان جنڈیالہ اور ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مابین ہوئی۔اِس رسالہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی کی نسبت ایک رؤیا کی بناء پر یہ پیشگوئی بھی کی گئی ہے کہ وہ میرے ایمان کو مان لے گا۔اور اپنی موت سے پہلے میری تکفیر سے تائب ہو گا۔اور یہ پیشگوئی بزبان حال اُس وقت پوری ہوئی جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت مباہلہ پر مباہلہ میں شامل نہ ہو ااور حضورؑ نے مباہلہ سے پہلے بذریعہ اشتہار یہ شائع کر دیا تھا کہ ’’اگر شیخ محمد حسین بٹالوی دہم ذیقعد ۱۳۱۰ ؁ھ کو مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوا تو اسی