ایّام الصّلح — Page 401
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۰۱ امام الصلح اور یہ بھی روایت ہے کہ حج روکا جائے گا۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ ان دنوں میں ایک آگ نکلے گی اور مدت تک اُس کی سُرخی رہے گی اور یہ جاوا کی آگ تھی جیسا کہ حجج الکرامہ میں بھی اس بات کو مان لیا ہے کہ یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ اب بتلاؤ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نشانوں کے بتلانے میں کونسی کسر رکھی اور امام موعود کی ذات میں آپ نے دو نشان بیان فرمائے ایک یہ کہ اس کو اسرار اور معارف عطا کئے جائیں گے اور وہ دنیا میں دوبارہ ایمان کو اور معرفت کو قائم کرے گا۔ یہ وہ نشان ہیں جن کی وجہ سے وہ مہدی کہلائے گا۔ اور دوسرے نشان دنیوی برکات کے ہیں کہ اس کے ہاتھ سے دنیوی برکات کے نشان ظاہر ہوں گے اور نیز زمین میں نہایت تازگی اور طراوت (۱۵۴) پیدا ہو جائے گی اور آبادی میں بڑی ترقی ہوگی اور بے وقت کے پھل لوگوں کو ملیں گے ۔ بہت سا حصہ زمین کا زراعت سے آباد ہو جائے گا۔ نہریں جاری ہو جائیں گی درندے کم ہو جائیں گے دنیا پر ایک آرام اور امن کا زمانہ آئے گا۔ یہاں تک کہ زندے آرزو کریں گے کہ اس وقت اُن کے باپ دادے ہوتے۔ اب دیکھو کہ اس زمانہ میں میرے ہاتھ سے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرز پر بھی نشان ظاہر ہوئے۔ کئی بیماروں بے قراروں کی نسبت دُعائیں قبول ہوئیں اور کئی دنیوی در ماندوں کو دوبارہ برکتیں دی گئیں۔ اور جیسا کہ دشمنوں کے لئے بھی مسیح کی دعاؤں نے اثر کیا تھا وہ نشان بھی اس جگہ ظہور میں آئے چنانچہ آتھم نے مقابلہ کے بعد کوئی خوشی نہ دیکھی اور تھوڑی مدت تلخ زندگی میں سرگرداں رہ کر آخر پیشگوئی کے مطابق فوت ہو گیا۔ ایسا ہی لیکھرام کا حال ہوا اور خدا نے پیشگوئی کو پورا کر کے مسلمانوں کو اس کی بد زبانی سے امن بخشا ایسا ہی مسیحی برکات نے زمانہ میں بھی اپنا اثر دکھایا کیونکہ سکھوں کے عہد میں ہر ایک طور سے مسلمانوں کو دُکھ دیا گیا تھا یہاں تک کہ بانگ نماز سے منع کیا جاتا تھا۔ گائے کے الزام سے ناحق صد با خون ہوتے تھے۔ زمینداروں کو کاشتکاری میں امن نہ تھا کھلے کھلے ڈا کے پڑتے تھے