ایّام الصّلح — Page 402
۱۵۵ روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۰۲ اتمام الصلح بہت سی زمین ویران پڑی تھی ۔ ہمیشہ کی جلا وطنیوں سے ملک تباہ ہو چکا تھا اور بے امنی کی وجہ سے نہ زراعت کا کچھ معتد بہ فائدہ ہوتا تھا نہ باغات کا۔ اور اگر چوروں سے کچھ بچتا تھا تو حکام لوٹ لیتے تھے۔ اب انگریزوں کے زمانہ میں وہ دور بدل گیا۔ اور حقیقت میں ایسا امن ہو گیا کہ بھیڑیا اور بھیٹر ایک جگہ بسر کر رہے ہیں۔ اور سانپوں سے بچے کھیل رہے ہیں۔ زمین خوب آباد ہوگئی اور پھلوں کی یہ کثرت ہو گئی کہ بعض پھل بارہ مہینے کے قریب رہنے لگے اور سفر ایسا سہل اور آسان ہو گیا کہ ریل کی سواری نے تمام مشکلات دور کر دیں۔ تار کے ذریعہ سے خارق عادت کے طور پر خبریں آنے لگیں۔ بیماریوں کے لئے نہایت تجربہ کار ڈاکٹر پیدا ہو گئے ۔ نہریں جاری ہو گئیں پہاڑوں کا سفر نہایت آسان ہو گیا اور صد ہا قسم کی کھلیں جو امور معیشت کو سہل اور آسان کرتی ہیں پیدا ہو گئیں اور صد ہا قسم کی تکلیفیں دور ہو گئیں ۔ اب حقیقت میں ایک عقلمند آدمی اپنے ان ایام کا خیال کر کے باپ دادوں کے ایام کو افسوس کی نظر سے دیکھے گا جن کو سفر کے لئے پکی سڑک بھی میسر نہیں آتی تھی۔ ایک ٹو پر پھیس کوس سفر کرنا ہزار کوس کے برابر تھا دھوپ ہوتی تھی پینے پر پسینہ آتا تھا گرمی کے دنوں میں ٹو کی سواری پر یا پیادہ یا ایسا سفر ایک موت ہوتی تھی۔ اب یہ بہار ہے کہ نہایت آرام سے ریل کی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی میں بیٹھے ہیں ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے جا بجا پانی اور کھانے پینے کا سامان موجود ہے۔ بیٹھے بیٹھے ہر ایک چیز اور جنگل کے عجائبات کو دیکھ رہے ہیں گویا ایک نظارہ گاہ ہے۔ جس قدر روپیہ خرچ کریں اُسی قدر ریل میں آرام کے سامان موجود ہیں۔ غرض اس وقت اگر دنیا کی حالت تمدن پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہزار دو ہزار آرام کے سامان میسر آگئے ہیں اور بے شمار دنیوی برکتیں نازل ہو گئی ہیں۔ اور سب کے علاوہ سلطنت میں نہایت امن ہے۔ قواعد اور قوانین کی پابندی کے نیچے محکوم اور حاکم برابر چل رہے ہیں ایک ذرہ بھی حکومت نمائی نہیں۔ پس یہ وہی زمانہ تھا جس کی نسبت خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے وقت میں ایسا زمانہ ہو گا اور اس قدر دنیوی برکات اور دنیوی امن پیدا ہو جائیں گے۔