ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 550

ایّام الصّلح — Page 399

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۹۹ اتمام اصلح اور اسی کے مطابق میں نے وہ قول پایا جو آثار میں لکھا ہے اور حجج الکرامہ میں بھی اُس کو ذکر کیا ہے کہ مہدی موعود کا بدن دو حصوں پر منقسم ہو گا نصف حصہ عربی ہو گا اور نصف حصہ اسرائیلی یه اسی امر مشترک کی طرف اشارہ تھا اور اس سے مقصد یہی تھا کہ وہ شخص کچھ تو عیسی علیہ السلام کی صفات کا وارث ہوگا اور کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا۔ فتدبّر اور جس طرح بعض صفات کے لحاظ سے امام موعود کا نام احمد اور محمد رکھا گیا اسی طرح بعض دوسری صفات کے لحاظ سے عیسی اور مسیح ابن مریم رکھا گیا۔ اب ظاہر ہے کہ احمد کے نام ۱۵۲ سے کوئی شخص یہ نہیں سمجھ سکتا کہ حقیقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ آ جائیں گے اسی طرح عیسی کے نام سے یہ سمجھنا کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آجائیں گے یہ ایک غلطی ہے کہ اس پیشگوئی کے سر اور مغز کے نہ سمجھنے سے پیدا ہوئی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں ناموں میں بروزی ظہور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ خص موعود کا احمد نام رکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ ہی فرما دیا ہے کہ اس کی صفات میری صفات سے اور اس کی صورت میری صورت سے مشابہ ہوگی۔ یہی تقریر تھی جو بروزی ظہور کی طرف اشارہ تھا یعنی وہ بلحاظ صفات احمد یہ احمد کہلائے گا۔ اسی طرح شخص موعود کا نام عیسی رکھ کر اور پھر اس کی نبت اِمَامُكُمْ مِنْكُم اور آئكُمْ مِنْكُمْ کہ کر جیسا کہ بخاری اور مسلم میں آیا ہے صاف ہدایت کر دی کہ عیسی سے حقیقی طور پر عیسی مراد نہیں ہے بلکہ یہ شخص امت میں سے ہوگا۔ حدیث کے الفاظ میں یہ نہیں ہے کہ پہلے وہ نبی ہوگا اور پھر امتی بن جائے گا۔ اگر یہی مفہوم حدیث میں مراد ہوتا تو یوں کہنا چاہیے تھا کہ اِمامُكُمُ الَّذِى سَيَصِيرُ مِنْكُمْ وَ مِنْ أُمَّتِي بَعْدَ نُبُوَّتِهِ یعنی تمہارا امام جو نبوت کے بعد پھر تم میں سے اور میری امت میں سے ہو جائے گا۔ اسی وجہ سے بخاری کی حدیثوں میں جو دوسری حدیثوں کی نسبت بہت زیادہ صحیح اور نہایت تحقیق سے لکھی گئی ہیں آنے والے مسیح موعود کے خلیہ اور حضرت عیسی علیہ السلام رسول اللہ کے حلیہ میں فرق ڈال دیا گیا ہے ۔ یعنی حضرت عیسی کا حلیہ کوئی اور لکھا ہے جس میں اُن کو