ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 550

ایّام الصّلح — Page 398

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۹۸ امام الصلح خدا کے نزدیک اس مجد د کا نام احمد اور محمد ہوگا۔ اور یہ بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ جو جسمانی اور فانی یعنی دنیوی برکتیں ہیں جو ہمیشہ نہیں رہ سکتیں اور محدود اور قابل زوال ہیں جن سے مُراد یہ ہے کہ دوستوں اور غریبوں اور مسکینوں اور رجوع کرنے والوں کی نسبت اُن کی صحت اور عافیت یا کامیابی اور امن یا فقر وفاقہ سے مخلصی اور سلامتی کے بارے میں برکات عطا کرنا اور ظالم درندوں کی نسبت (۱۵۱) اُن کی ہلاکت اور تباہی کے بارے میں جو در حقیقت غریبوں اور نیکیوں کی نسبت وہ بھی برکات ہیں قہر الہی کی بشارت دینا جیسا کہ حضرت مسیح نے یہودیوں کی تباہی کی نسبت بشارت دی تھی ان برکات کے عطا کرنے کے لحاظ سے اور نیز اُن دنیوی برکات کے لحاظ سے بھی کہ اس زمانہ میں انسانوں کو زندگی میں بہت سے وسائل آرام پیدا ہو جائیں گے وہ عیسی ابن مریم کہلائے گا۔ کیونکہ جو برکات اعلیٰ درجہ کی اور بکثرت حضرت مسیح کو دی گئی تھیں وہ یہی ہیں۔ اس لئے آخری امام کے لئے اُن برکات کا سر چشمہ حضرت مسیح ٹھہرائے گئے اور چونکہ حقیقت عیسوی یہی ہے اس لئے اس حقیقت کے پانے والے کا نام عیسی بن مریم قرار پایا جیسا کہ مہدویت کے لحاظ سے جو حقیقت محمد یہ تھی اس کا نام مہدی رکھا گیا۔ یہی حکمت ہے کہ جہاں براہین احمدیہ میں اسرار اور معارف کے انعام کا اس عاجز کی نسبت ذکر فرمایا گیا ہے۔ وہاں احمد کے نام سے یاد کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایا یا احمد فاضت الرحمة على شفتيک ۔ اور جہاں دنیا کی برکات کا ذکر کیا گیا ہے وہاں عیسی کے نام سے پکارا گیا ہے جیسا کہ میرے الہام میں براہین احمدیہ میں فرمایا۔یا عیسی انی متوفیک و رافعک الی و مطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القیامۃ ۔ ایسا ہی وہ الہام ہے جو فرمایا کہ میں تجھے برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ۔ یہ وہ سر ہے جو مہدی اور عیسی کے نام کی نسبت مجھ کو الہام الہی سے گھلا اور وہ پیر کا دن اور تیرھویں صفر ۱۳۱۶ھ تھا اور جولائی ۱۸۹۸ء کی چوتھی تاریخ تھی جبکہ یہ الہام ہوا۔ الله