ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 390 of 550

ایّام الصّلح — Page 390

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۹۰ اتمام الصلح حالانکہ قرآن بار بار یہی کہتا ہے کہ عیسی میں اور انسانوں کی نسبت کوئی امر زیادہ نہیں ہے۔ اب بتلاؤ کہ اگر ایک عیسائی تم پر یہ اعتراض کرے کہ اور انسانوں کی نسبت یسوع میں یہ امر زیادہ ہے کہ تم خود مانتے ہو کہ وہ قریباً دو ہزار برس سے آسمان پر زندہ موجود ہے نہ اُس کی قوت میں فرق آیا نہ اُس کا جسم لاغر ہوا نہ اُس کی بینائی میں کچھ فتور پڑا بلکہ بڑے جلال اور پوری قوت کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہے اور پھر آخری زمانہ میں فرشتوں کے ساتھ جو خدا کا خاص لشکر ہے زمین پر اترے گا جیسا کہ قرآن کے ایک اور مقام میں بھی ہے کہ خدا فرشتوں کے ساتھ آئے گا تو اس صورت میں خدائی صفات میسیج میں پائی گئیں اور خصوصیت خود توجہ دلاتی ہے کہ وہ عام انسانوں سے الگ ہے تو ذرا سوچ کر کہو کہ ان باتوں کا کیا جواب ہے؟ یہی وہ خیالات باطلہ ہیں جن کی شامت سے اب تک ہندوستان میں ایک لاکھ سے زیادہ اسلام سے مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا ہے ان سب کا خون ان نادان علماء کی گردن پر ہے۔ خدا تو اپنی آیات إِنَّ مَثَلَ عِيسَی عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ ادَم وغیرہ میں مسیح کی خصوصیت کی بیخ کنی کر رہا ہے تا کوئی جاہل اس کی کسی خصوصیت سے دھوکہ نہ کھائے اور تم لوگ نہ ایک خصوصیت بلکہ بہت سی خارق عادت خصوصیتیں اُس کی ذات میں قائم کرتے ہو۔ تمہارے نزدیک وہ اب تک حیات جسمانی سے بڑی قوت اور طاقت کے ساتھ جیتا ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ساٹھ برس تک ہی عمر پا کر فوت ہو گئے مگر مسیح ابن مریم اس وقت تک بھی جو دو ہزار تک عدد پہنچنے لگا زندہ آسمان پر موجود ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بقول تمہارے ایک مکھی بھی پیدا نہ کی مگر مسیح ابن مریم کے پیدا کئے ہوئے کروڑ ہا پرندے اب تک موجود ہیں۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ایک ۱۳۵ مردے کو بھی جو صحابہ کرام میں سے سانپ کے کاٹنے سے مرگیا تھا باوجود اصرار اور الحاح صحابہ کے زندہ نہ کر سکے مگر بقول تمہارے عیسی ابن مریم نے ہزار ہا مردے زندہ کئے اور جو کام حضرت عیسی نے طفولیت میں کئے وہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے زمانہ میں بھی نہ دکھلائے۔ آل عمران: ۶۰