ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 550

ایّام الصّلح — Page 391

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۹۱ امام الصلح اب بتلاؤ کہ یہ تمام خصوصیتیں جن کے تم خود قائل ہو تمہیں اس بات کے ماننے کے لئے مجبور کرتی ہیں یا نہیں کہ حضرت عیسیٰ کی ذات انسانی صفات سے نرالی تھی یہاں تک کہ بوقت پیدائش کوئی شخص بقول تمہارے مس شیطان سے محفوظ نہ رہ سکا اور یہ اعلیٰ درجہ کی عصمت بھی عیسی ابن مریم کو ہی نصیب ہوئی۔ ذرا سوچو کہ ان باتوں سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ کیا قرآن اس قسم کی خصوصیتوں کو حضرت عیسی کی نسبت تسلیم کرتا ہے؟ اُس نے تو مس شیطان کی نسبت بھی تمام نبیوں اور رسولوں کو عصمت کے بارے میں مساوی حصہ دیا ہے جبکہ کہا اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن سے غرض حضرت عیسی کی نسبت کوئی خصوصیت قرار دینا قرآنی تعلیم کے مخالف اور عیسائیوں کی تائید ہے اور جیسا کہ نصوص قطعیہ کے رُو سے حضرت عیسی کی وفات ثابت ہوتی ہے ایسا ہی تاریخی سلسلہ کے رُو سے بھی اُن کا مرنا بپایہ ثبوت پہنچتا ہے۔ دیکھو نسخہ مرہم عیسی جس کا ذکر میں مفصل لکھ چکا ہوں۔ کیسی صفائی سے ظاہر کر رہا ہے کہ حضرت عیسی واقعہ صلیب کے وقت آسمان پر نہیں اُٹھائے گئے ۔ بلکہ زخمی ہو کر ایک مکان میں پوشیدہ پڑے رہے اور چالیس دن تک اُن کی مرہم پٹی ہوتی رہی کیا یہ تمام دنیا کے طبیب اسلامی اور عیسائی اور مجوسی اور روسی اور یہودی جھوٹے ہیں اور تم سچے ہو؟ اب سوچو تمہارا یہ عقیدہ آسمان پر اٹھائے جانے کا کہاں گیا یہ نہ ایک نہ دو بلکہ ہزار کتاب متفرق فرقوں کی ہے جو واقعات صحیحہ کی گواہی دے کر جھوٹے منصوبوں کی قلعی کھول رہی ہیں۔ یہ کس اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے ذرا خدا سے ڈر کر سوچو۔ پھر یہ بھی آثار میں لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم نبی سیاح تھا بلکہ وہی ایک نبی تھا جس نے دنیا کی سیاحت کی۔ لیکن اگر یہ عقیدہ تسلیم کیا جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب کے واقعہ پر جو با تفاق علماء نصاری و یہود واہل اسلام ان کی تینتیس برس کی عمر میں وقوع میں آیا تھا وہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے تو وہ کونسا زمانہ ہوگا جس میں انہوں نے ا بنی اسرائیل : ۶۶