ایّام الصّلح — Page 376
روحانی خزائن جلد ۱۴ ایام الصلح امم ماضیہ کی تقلید ہو بہو ادا کی ۔ میں نے نہ کبھی جہانت اور یہ دلی دکھائی اور نہ میں کبھی اُن سے دیا جس سے اُن کو میری تو بہ کا یقین یا احتمال پیدا ہوا ہو ۔ البتہ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ اور وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الجهلُونَ " پرعملدرآمد میرا ہوتا رہا۔ اس کو اگر انہوں نے تو یہ سمجھ لیا تو یہ ان کی فہم رسا کی خوبی ہے۔ لاحول و لا۔ اس قدر جھوٹ ۔ بزرگوارا اگر چہ نابکار شرف زیارت سے محروم ہے مگر آنحضرت کی محبت اور عظمت اور ادب اور اطاعت اور کثرت یاد میری روح اور جان کا جزو ہو گیا ہے۔ میں اپنی جان سے کس طرح علیحدہ ہو سکتا ہوں۔ میرے پیارے میرے دل کا حال اس سے دریافت فرما جو سب بھیدوں سے واقف ہے۔ وَلَا يُنبنك مِثْلُ خَبِيرٍ ۔ میرے مولی تو نے تو خدا اور رسول کا پتہ دیا۔ تو نے جنت کا راستہ بتلایا تو نے قرآن سکھلایا ہم غفلت میں پڑے سوتے تھے تو نے ہی آن جگایا ہم اسمی اور رسمی مسلمان تھے تو نے ہی ہم کو حقیقی اسلام سے آگاہی بخشی ہم نہیں جانتے تھے کہ دُعا کیا چیز ہے اور تقویٰ کس شے کا نام ہے تو نے ہی تو اُن کا نشان ہم پر ظاہر فرمایا ۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ گورنمنٹ عالیہ کے ہم پر کیا کیا حقوق ہیں تو نے ہی تو وفاداری اور فرمانبرداری کا طریقہ سمجھایا۔ غرض کہاں تک تیرے احسانات کو لکھوں وہ تو بے شمار ہیں تو ہمارا آقا تو ہمارا مولی ہم تیرے خادم ہم تیرے غلام ۔ بھلا تجھ کو چھوڑ کر خدا کی لعنت کماویں۔ میرے بادی اگر میں ایسا ضعیف الاعتقاد ہوتا تو مخالفوں کی نظروں میں خار کی طرح کیوں چھتا۔ مخالف سے جب کبھی کسی گذر پر دو چار ہونے کا موقعہ پیش آتا ہے تو وہ مجھ کو دیکھتے ہی غیظ و غضب سے بھر جاتا ہے ۔ میں نے مسجدوں میں نماز پڑھنی ترک کر دی بدین لحاظ کہ میاں عبداللہ صاحب سنوری سے مجھ کو روایت پہنچی ہے کہ جو لوگ خاموش بیٹھے ہیں گو مخالفت نہیں کرتے اُن کے پیچھے بھی نماز درست نہیں۔ بزرگوا را قاضی صاحب قاضی خواجہ علی صاحب اور صاحبزادہ افتخار احمد صاحب اور منشی ابراہیم صاحب اور میاں الہ دین صاحب وغیرہ وغیرہ احباب لودیا نوی سے اپنے غلام کا حال استفسار فرمادیں۔ میرے آقا مجھ کو کسی نازک موقعہ الاعراف : ۲۰۰ ۲ الفرقان : ۶۴