ایّام الصّلح — Page 377
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۷۷ اتمام اصلح اور سخت ابتلا کے وقت بھی لغزش نہیں ہوئی چہ جائیکہ اب اور ان ایام میں جب کہ آپ کے متواتر کثیر التعداد عظیم القدر و جلیل الشان نشانات علمی و عملی معرض ظہور میں آچکے اور روز روشن کی طرح حق کی صداقت چمک اٹھی۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ استقامت محض حضور ہی کی (۱۳۴) نیم شبی دعاؤں کا ثمرہ ہے۔ ورنہ ہم تو وہی ہیں جو ہیں ۔ مریدوں میں صداقت اور راستی چاہیے پھر انشاء اللہ آپ کی فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَب لے والی تحمیل کے طفیل سے ضائع نہیں ہو سکتے ۔ اگر چہ میں ایک غریب آدمی ہوں لیکن خدا کے فضل سے دل غنی ہے۔ دنیا دار دولت مند میری نظروں میں مرے ہوئے کیڑے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ یہ ہیں ہی کیا بلا ۔ یہ تو مر دے ہیں جن میں جان نہیں۔ ان کی مکروہ صورتیں نفرت کے لائق ہیں۔ ان سے دبنے والا اور ان کا دست نگر انہی جیسا کوئی اندھا ہوگا۔ اے میرے ہادی! میں ارسال عرائض میں اس واسطے دریغ کرتا ہوں کہ میں اپنے اس فعل کو اخف سمجھتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میں کیا اور میرے عرائض کیا یونہی بے فائدہ بندگانِ عالی کو کیوں تکلیف دوں عریضہ کے کھولنے میں پڑھنے پڑھانے میں چند منٹ اوقات اشرف میں سے ضائع ہوں گے ناحق کی حرج ہوگی۔ صحبتِ اقدس اور شرفِ زیارت مبارک سے بباعث چند در چند موانع غیر مستفیض رہتا ہوں۔۔۔ مہربانا حضور کی تصنیفات پر انوار اور تالیفات حکمت بار جو وقتاً فوقتاً شائع ہوتی رہتی ہیں میرے از دیاد ایمان و عرفان کے لئے رہبر کامل کا کام دیتی ہیں۔ جو جو حالات آنجناب پر حضرت کبریا کی طرف سے منکشف ہوتے ہیں اور پھر ان روحانیات کو اور ان کشوف و خوارق و رؤیا والہامات کو آپ درج صحت مطہرہ فرماتے ہیں کم و بیش ان رُوحانی کوائف اور تاثیرات کی حلاوت سے میرے مذاق جان کو بھی چاشنی نصیب ہوا کرتی ہے اور ایسا احساس ہوتا ہے کہ گویا میں خودان حالات کا مورد ہوں ۔لیکن میں اس دُوری و مہجوری کو ہرگز ہرگز اپنے واسطے پسند نہیں کرتا کیونکہ مقربین بساط قدسی آیات کو جو جو برکات اور خوبیاں حاصل ہیں اُس کا عشر عشیر بھی دُور دستوں کو نصیب نہیں۔ اصحاب صفہ الم نشرح: ۸