ایّام الصّلح — Page 375
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۷۵ اتمام اصلح مهبط روح الامین مطلع نور مین مسکن پاک ترا ساخته رب الورا طور جلال خدا عرش برین دلت نور جمالِ خدا صورتت اے رہنما امت احمد که بود بسته جور و جفا احمد آخر زمان کرد از بندش رہا قاتل اعداء دین ناصر دین متین عالم عالم پناه بادی رشد و نقا دید خدا بالیقین ہر کہ ترا دیده است دید خداد ید تست نیست غلط این صدا غاشیه بندگیت ہر کہ فگندش بدوش دولت جاوید یافت عزت و مجد و علا جان والے کزرہت داشت فدایش دریغ از سرفتوی عشق بے خبر است از وفا وه چه خوش آن حالتے وہ چہ خوش آن ساعتے گزرو شوق و طرب جاں بکنیمت فدا مہر تو در خاطرم مضمحل و شست نیست تاکندش منعدم بنده فشل و دغا فضل عمیم خدا حافظ ما عاجزان مرد مزور اگر نالہ گند یا بکا ما بہزار التجا ما بہزار التماس حلقه بگوشیت را می طلبیم از خدا مست مئے عشق تو بے خبر از غیر حق محو شد از خویشتن هر که بدید آن لقا آتش عشق ترا خود بدل و جاں زدیم تا که بسوزیم پاک آنچه بود ماسوا اما بعد بخدمت اقدس حضرت امام الوقت گذارش آنکہ اس ناکارہ دُور افتادہ کو معلوم ہوا کہ آج کل شہزادہ والا گوہر صاحب اکسٹرا اسٹنٹ جہلم نے اخبار سراج الاخبار میں میری نسبت لکھا ہے کہ فلاں نے اپنے اعتقاد سے تو بہ کی ہے اور تو بہ اس واسطے نصیب ہوئی کہ شہزادہ صاحب نے میرے عقیدہ کی خرابی مجھ پر ثابت کر دی ۔ سُبْحَانَكَ إِنْ هَذَا إِلَّا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ بزرگوارا! دوماہ تک شہزادہ صاحب سے مسیح موعود کی حیات و ممات اور حضور علیہ السلام کے دعاوی پر زبانی بحث ہوتی رہی۔ چنانچہ (۱۳۳) مولوی عبد العزیز مولوی مشتاق احمد ، قاضی فضل احمد منشی سعد اللہ مدرس وغیرہ نے جو مدت سے کینہ نہفتہ کی زہر اگلنے کی تاک رکھتے تھے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر شہزادہ صاحب سے خوب گت ملائی اور سفہاء