ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 550

ایّام الصّلح — Page 342

۱۰۵ روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۴۲ اتمام اصلح اُن کی خبر لیتا ہے اور عجیب طور پر دشمنوں کی سازشوں اور منصوبوں سے انہیں بچالیتا ہے اور ذلت کے مقاموں سے انہیں محفوظ رکھتا ہے۔ وہ اُن کا متولی اور متعہد ہو جاتا ہے۔ وہ اُن مشکلات میں جبکہ کوئی انسان کام نہیں آسکتا اُن کی مدد کرتا ہے۔ اور اُس کی فوجیں اس کی حمایت کے لئے آتی ہیں۔ کس قدر شکر کا مقام ہے کہ ہمارا خدا کریم اور قادر خدا ہے۔ پس کیا تم ایسے عزیز کو چھوڑو گے ؟ کیا اپنے نفس نا پاک کے لئے اُس کی حدود کو توڑ دو گے۔ ہمارے لئے اُس کی رضا مندی میں مرنا نا پاک زندگی سے بہتر ہے۔ قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔ وجہ یہ کہ تقومی ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے اور اس قدر تا کید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے اور ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے۔ ایک متقی انسان بہت سے ایسے فضول اور خطرناک جھگڑوں سے بچ سکتا ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہو کر بسا اوقات ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں اور اپنی جلد بازیوں اور بدگمانیوں سے قوم میں تفرقہ ڈالتے اور مخالفین کو اعتراض کا موقعہ دیتے ہیں۔ مثلاً سوچ کر دیکھو کہ اس زمانہ کے معاند مولویوں نے ہماری تکفیر اور تکذیب کے خیال کو بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے کس حد تک پہنچا دیا ہے کہ اب ہم ان کی نظر میں اپنے کفر کے لحاظ سے عیسائیوں اور ہندوؤں سے بھی بدتر ہیں۔ کیا ایک متقی جو واقعی طور پر شکوک کی پیروی سے اپنے دل کو روکتا ہے وہ ان بلاؤں میں پھنس سکتا ہے؟ اگر ان لوگوں کے دلوں میں ایک ذرہ بھی تقوی ہوتی تو میرے مقابل پر وہ طریق اختیار کرتے جو قدیم سے حق کے طالبوں کا طریق ہے۔ کیونکہ قدیم سے اس اصول کو ہر ایک قوم مانتی آئی ہے اور اسلام نے بھی اس کو مانا ہے کہ جو لوگ انبیاء اور رسولوں اور مامور مین اللہ کے منصب سے اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرتے ہیں اُن سے اگر علماء وقت کا کسی حدیث یا کتاب اللہ کے معنے بیان کرنے میں اختلاف ہو جائے تو اُن کے ساتھ طریق تصفیہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ دوسرے معمولی انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ ایک فریق اپنے طور کے معنے میں زیادہ قوت اور ترجیح دے کر دوسرے فریق کی تکذیب پر جلد آمادہ ہو جاتا ہے بلکہ باوجود اختلاف تفسیر اور تاویل کے جو مابین واقع ہو