ایّام الصّلح — Page 343
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۴۳ امام الصلح اور باوجود اس بات کے جو بظاہر کسی قول کے وہ معنے قریب قیاس ہوں جو بر خلاف بیان کردہ مامورین ہوں پھر بھی مامورین اور الہام پانے والوں کے مقابل پر سعید لوگ اپنے قرار دادہ معنوں پر ضد اور ہٹ نہیں کرتے بلکہ جب خدا تعالی کی متواتر تائیدات اور طرح طرح کے نشانوں سے ظاہر ہو جائے کہ وہ لوگ موید من اللہ ہیں تو اپنے معنے چھوڑ دیتے ہیں اور وہی معنے قبول کرتے ہیں جو انہوں نے (۱۰۶)) کئے ہوں گو بظاہر اُس میں کسی قسم کا ضعف بھی معلوم ہو۔ کیونکہ معانی کے بیان کرنے میں بہت توسع ہے اور بسا اوقات ایک شخص جو مجاز کا پہلو اختیار کرتا ہے اور ایک عبارت کے معنے مجازی رنگ میں بتلاتا ہے وہ اس دوسرے کے مقابل پر حق پر ہوتا ہے جو ظاہر معانی کو لیتا ہے اور مجاز کی طرف نہیں جا تا بلکہ ملہمین اور مرسلین کے ساتھ یہ ادب رکھنا لازمی ہے کہ اگر وہ بغیر کسی قرینہ کے بھی صرف عَنِ الظَّاهِر کریں تو اُن سے قرائن کا مطالبہ نہ کیا جائے جیسا کہ دوسرے علماء سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ہاں اس بات کو دیکھنا ضروری ہوگا کہ وہ در حقیقت مؤید من اللہ اور مقبول الہی ہیں ۔ اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ وہ مؤید من اللہ ہیں تو پھر اختلاف کے وقت یعنی جب کہ علماء میں اور اُن میں کسی کتاب الہی کے معنے بیان کرنے میں اختلاف واقع ہو وہی معنے قبول کئے جائیں گے جو مامورین نے کئے ہیں۔ اسی اصول پر ہمیشہ عمل درآمد رہا ہے ۔ مثلاً جب حضرت عیسی علیہ السلام اور یہود میں ☆ اگر کوئی کہے کہ اگر اختلاف کے وقت مہم کے معنوں کو ماننا ضروری ہے تو ممکن ہے کہ ایسا مدعی الہام اور ماموریت کا جس کا ہنوز منجانب اللہ ہونا ثابت نہیں ہوا۔ ایسے معنے خدا کی کتاب کے کرے جن میں صاف الحاد ہو تو وہ معنے کیونکر مان لئے جائیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بموجب وعدہ قرآن شریف کے بچے ملہم کی یہ نشانی مقرر شدہ ہے کہ اس کی خدا تعالی کی طرف سے تائید ہوتی ہے اور بجز اس کے دوسرا شخص کچی پیشگوئی دکھلا نہیں سکتا پھر جب ان علامتوں سے وہ سچا ثابت ہوا تو پھر وہ محمد کیونکر ہوگا ؟ خدا کا یہ بھی وعدہ ہے کہ مفتری ہلاک کیا جاتا ہے۔ غرض یہ ایک تصدیق شدہ مسئلہ ہے جس پر ہزاروں راستبازوں نے اپنے خون کے ساتھ مہر لگا دی ہے کہ اگر مدعی الہام اور وحی اور اس کے غیر میں کسی عبارت کے معنوں میں اختلاف واقع ہو تو بعد اس کے کہ اس مدعی کا سچا ہونا خدا کی تائید اور اس کے نشانوں سے ثابت ہوتا ہو متنازع فیہ معنوں میں سے وہی معنے قبول کئے جائیں گے جو اس مدعی کے منہ سے نکلے ہیں۔ یہی وہ طریق ہے جس پر راستبازوں نے قدم مارا ہے اس سے یہ ثابت ہوا کہ جو شخص وحی اور الہام کا دعوی کرے اس کی بات صرف اسی حالت میں رو کرنے کے لائق ہوتی ہے کہ جب وہ صاحب آیات نہ ہو ۔ منہ