ایّام الصّلح — Page 313
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۱۳ امام الصلح (۳) ان حملوں کے کمال جوش کے وقت میں ایک شخص ظاہر ہوا جس نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ (۴) آسمان پر حدیث کے موافق ماہ رمضان میں سورج اور چاند کا گسوف خسوف ہوا۔ (۵) ستارہ ذوالسنین نے طلوع کیا وہی ستارہ جو حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں نکلا تھا جس کی نسبت حدیثوں میں پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ آخر زمان یعنی مسیح موعود کے وقت میں نکلے گا۔ (۶) ملک میں طاعون پیدا ہوا ابھی معلوم نہیں کہاں تک انجام ہو۔ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ آخر زمان یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں طاعون پھوٹے گی۔ (۷) حج بند کیا گیا۔ یہ بھی حدیثوں (۷۸) میں تھا کہ آخر زمان یعنی مسیح کے زمانہ میں لوگ حج نہیں کر سکیں گے ۔ کوئی روک واقع ہوگی ۔ (۸) ریل کی سواری پیدا ہو گئی۔ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہوگی جو صبح اور شام اور کئی وقت چلے گی اور تمام مدار اس کا آگ پر ہوگا اور صد ہا لوگ اُس میں سوار ہوں گے (۹) باعث ریل اکثر اونٹ بے کا رہو گئے ۔ یہ بھی حدیثوں اور قرآن شریف میں تھا کہ آخری زمانہ میں جو مسیح موعود کا زمانہ ہوگا اونٹ بے کار ہو جائیں گے۔(۱۰) جاوا میں آگ نکلی اور ایک مدت تک کنارہ آسمان سُرخ رہا۔ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایسی آگ نکلے گی ۔ (11) دریاؤں میں سے بہت سی نہریں نکالی گئیں۔ یہ قرآن شریف میں تھا کہ آخری زمانہ میں کئی نہریں نکالی جائیں گی۔ ایسا ہی اور بھی بہت سی علامتیں ظہور میں آئیں جو آخری زمانہ کے متعلق تھیں ۔ اب چونکہ ضرور ہے کہ تمام علامتیں یکے بعد از دیگرے واقع ہوں اس لئے یہ ماننا پڑا کہ جو علامت ذکر کردہ عنقریب وقوع میں نہیں آئے گی وہ یا تو جھوٹ ہے جو ملایا گیا اور یا یہ سمجھنا چاہئیے کہ وہ اور معنوں سے یعنی بطور استعارہ یا مجاز وقوع میں آگئی ہے ۔ اور طریق عقلی بھی یہی چاہتا ہے کہ مسیح موعود کا اسی طرح ظہور ہو کیونکہ عقل کے سامنے ایسی کوئی سنت اللہ نہیں جس سے عقل اس امر کو شناخت کر سکے کہ آسمان سے بھی لوگ صد با برس کے بعد نازل ہوا کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے نئے نشان بھی یہی گواہی دے رہے ہیں ۔ کیونکہ اگر یہ کاروبار