ایّام الصّلح — Page 312
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۱۲ امام الصلح اور نادان لوگ اس قدر بد گوئی اور گالیوں اور مخش بولنے کی نجاست کھا ئیں گے کہ خنزیہ بن جائیں گے۔ تب مسیح ظہور کرے گا اور روحانی حربہ یعنی اتمام حجت سے اُن خنزیروں کا کام تمام کر دے گا۔ اور اس کے ساتھ فرشتے نازل ہوں گے یعنی سچائی کی تائید میں کچھ ایسی ہوا چلے گی کہ دلوں کو اسلامی توحید کی طرف پھیرے گی اور لوگ باطل عقیدوں سے بالطبع منتظر ہوتے جائیں گے اور اس طرح ملل باطلہ پر موت آ جائے گی ۔ ان حدیثوں کے یہی معنے واقعی طور پر صیح ہیں۔ نہ یہ کہ تلوار چلے گی اور تمام دنیا خون میں غرق کی جائے گی۔!! اب جبکہ صلیبی زور اور صلیبی حمایت اور بدگوئی میں قلم زنی انتہا تک پہنچ گئی تو وہ علامت جو ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور مسیح موعود کے لئے مقررفرمائی تھی ظاہر ہوگئی ۔ اور احادیث صحیحہ میں لکھا ہے کہ جب علامات کا ظہور شروع ہوگا تو تسبیح کے دانوں کی طرح جبکہ اُن کا دھاگہ توڑ دیا جائے وہ ایک دوسرے کے بعد ظاہر ہوتی جائیں گی۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ غلبۂ صلیب کی علامت کے ساتھ اور تمام علامتیں بلا توقف ظاہر ہونی چاہئیں۔ اور جو علامتیں اب بھی ظاہر نہ ہوں اُن کی نسبت قطعی طور پر سمجھنا چاہیے کہ وہ علامتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں فرمائیں یا بیان فرما ئیں مگر ان سے ان کے ظاہری معنے مراد نہ تھے کیونکہ جب علامات کا تسبیح کے دانوں کی طرح ایک کے بعد دوسرے کا ظاہر ہونا ضروری ہے، تو جو علامت اس نظام سے باہر رہ جائے اور ظاہر نہ ہو اس کا باطل ہونا ثابت ہو گا۔ دیکھو یہ علامتیں کیسی ایک دوسرے کے بعد ظہور میں آئیں (۱) چودھویں صدی میں سے چودہ برس گزر گئے جس کے سر پر ایک مجدد کا پیدا ہونا ضروری تھا (۲) صلیبی حملے مع فحش گوئی اسلام پر نہایت زور سے ہوئے جو کسر صلیب کرنے والے مسیح موعود کو چاہتے تھے کیا نوٹ: قرآن شریف میں بھی آخری زمانہ میں پادریوں اور مشرکوں کا اسلام پر اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بد گوئی اور نخش گوئیوں کے ساتھ زبان کھولنا بیان فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى گشیر الے یعنی تم اہل کتاب اور مشرکوں سے دل آزار اور دُکھ دینے والی باتیں بہت سنو گے۔ سو جس قدر اس زمانہ میں دلآزار باتیں سنی گئیں اُن کی نظیر تیرہ سوبرس میں نہیں پائی گئی۔ اس لئے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا یہی زمانہ ہے۔ منہ آل عمران: ۱۸۷