ایّام الصّلح — Page 287
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۸۷ اتمام الصلح یہ مطلب نہیں کہ وہ در حقیقت صلیب کی صورت کو توڑ دے گا بلکہ یہ مطلب ہے کہ وہ ایسے دلائل اور برا مین ظاہر کرے گا جن سے صلیبی اصول کی غلطیاں ظاہر ہو جائیں گی۔ اور دانشمند لوگ اس مذہب کا کذب یقین کر جائیں گے۔ اور اس حدیث میں یہ صاف اشارہ ہے کہ اس مسیح موعود کا زمانہ ہی ایسا زمانہ ہوگا کہ صلیبی مذہب کا بطلان دن بدن کھلتا جائے گا اور خود بخود دلوگوں کے خیال اس طرف منتقل ہوتے جائیں گے کہ مذہب تثلیث باطل ہے۔ ایسا اعتقاد سچائی کا خون کرنا ہے کہ اس وقت عیسائیوں کے ساتھ لڑائیاں ہوں گی۔ اسلام اور قرآن نے کبھی اور کہیں اجازت نہیں دی کہ جو لوگ صرف زبان سے اور مال سے اپنے دین کو ترقی دیتے ہیں اور مذہب کے لئے لڑائی نہیں کرتے اُن سے لڑائی کی جائے۔ یہ خیالات قرآنی تعلیم کے سخت مخالف ہیں۔ خدا تعالیٰ ہمارے علماء کے حال پر رحم کرے وہ کیسی غلطی پر ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ مسیح کے وقت اسلام محض اپنی روحانی طاقت سے ترقی کرے گا۔ اور اپنی تریاقی قوت سے زہریلے مواد کو دور کر دے گا اور مسیح موعود کے ظہور کے ساتھ آسمان سے ایسے فرشتے دلوں میں سچائی کا القا کرنے والے نازل ہوں گے کہ جو خیالات کو تبدیل کریں گے۔ اسی لئے لکھا ہے کہ مسیح موعود دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوگا۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ اس کے ظہور کے ساتھ ملائک کے تصرفات شروع ہو جائیں گے اور لوگ رفتہ رفتہ خواب غفلت سے جاگتے جائیں گے۔ اور چونکہ یہ سب کچھ مسیح کے ظہور کے ساتھ شروع ہو جائے گا۔ اس لئے یہ تمام کارروائی کسر صلیب کی مسیح موعود کی طرف منسوب ہوگی اور کفر کے مقابلہ پر مثلا زید یا بکر یا خالد یا کوئی اور شخص جو کچھ عمدہ معارف بیان کرے گا وہ سب معارف مسیح موعود کے طفیل ہوں گے اور اُس کی طرف منسوب کئے جائیں گے کیونکہ وہی ہے جس کے ساتھ فرشتے آئے اور وہی ہے جو روحانی انوار کے لحاظ سے آسمان سے نازل ہوا اور وہی ہے جو باز کی طرح مشقی تثلیث کے شکار کے لئے اترا لیکن نہ بختی سے بلکہ امن اور ا نوٹ :- یہ سنت اللہ ہے کہ جب ایک مامور آتا ہے تو آسمان سے اس کے ساتھ فرشتے یا یوں کہوں کہ نور اترتا ہے اور وہ نورمستعد دلوں پر پڑتا اور ان کو روشن کرتا اور ان کو قوت دیتا ہے اور ہر ایک شخص قوت پا کر روحانی امور کو سمجھنے لگتا ہے ۔ چونکہ اس نزول نور کا اصل سبب وہ مامور ہی ہوتا ہے اس لئے اس زمانہ کے تمام دینی معارف اُسی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔ منہ