ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 550

ایّام الصّلح — Page 288

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۸۸ اتمام اصلح صلح کاری سے۔ خدا تعالی جوارحم الراحمین اور ماں باپ سے زیادہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے ہرگز ممکن نہیں کہ وہ اپنے غافل اور کمزور بندوں کے لئے یہ پہلو اختیار نہ کرے کہ اُن کو تیرہ سو برس سے غافل پا کر دلائل اور براہین سے سمجھا دے اور آسمانی نشانوں سے تسکین بخشے اور یہ پہلو اختیار کرے کہ کسی کو بھیج کر غافل بندوں کو فنا کرنے کے لئے طیار ہو جائے۔ یہ عادت اس کی ان صفات کے مخالف ہے جن کی قرآن شریف میں تعلیم دی گئی ہے۔ اور قرآن شریف میں یہ وعدہ تھا کہ خدا تعالیٰ فتنوں اور خطرات کے وقت میں دین اسلام کی حفاظت کرے گا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے ۔ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ و خدا تعالیٰ نے بموجب اس وعدہ کے چار قسم کی حفاظت اپنی کلام کی کی۔ اول حافظوں کے ذریعہ سے اُس کے الفاظ اور ترتیب کو محفوظ رکھا۔ اور ہر ایک صدی میں لاکھوں ایسے انسان پیدا کئے جو اُس کی پاک کلام کو اپنے سینوں میں حفظ رکھتے ہیں۔ ایسا حفظ کہ اگر ایک لفظ پوچھا جائے تو اس کا اگلا پچھلا سب بتا سکتے ہیں۔ اور اس طرح پر قرآن کو تحریف لفظی سے ہر ایک زمانہ میں بچایا۔ دوسرے ایسے ائمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے جنہوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کر کے خدا کی پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔ تیسرے متکلمین کے ذریعہ سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل کے ساتھ تطبیق دے کر خدا کی پاک کلام کو کو نہ اندیش فلسفیوں کے استخفاف سے بچایا ہے۔ چوتھے روحانی انعام پانے والوں کے ذریعہ سے جنہوں نے خدا کی پاک کلام کو ہر ایک زمانہ میں معجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ سے بچایا ہے۔ سو یہ پیشگوئی کسی نہ کسی پہلو کی وجہ سے ہر ایک زمانہ میں پوری ہوتی رہی ہے اور جس زمانہ میں کسی پہلو پر مخالفوں کی طرف سے زیادہ زور دیا گیا تھا اُسی کے مطابق خدا تعالیٰ کی غیرت اور حمایت نے مدافعت کرنے والا پیدا کیا ہے۔ لیکن یہ زمانہ جس میں ہم ہیں یہ ایک ایسا زمانہ تھا جس میں مخالفوں نے ہر چہار پہلو کے رُو سے حملہ کیا تھا۔ اور یہ ایک سخت طوفان کے دن تھے الحجر: ١٠