ایّام الصّلح — Page 286
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۸۶ اتمام اصلح نشانوں کے مذہب کے لئے اور کوئی لڑائی نہیں ہوگی ۔ خود زمانہ ہی اس تبدیلی کو چاہے گا۔ اگر وہ مسیح موعود آیا بھی نہ ہوتا تب بھی زمانہ کی نئی ہوا ہی اُس دجالی ترقی کو پچھلا پچھلا کر نابود کر دیتی ۔ مگر یہ عزت اس کو دی جائے گی۔ کام سب خدا تعالیٰ کا ہوگا ۔ قو میں ہلاک نہیں ہوں گی بلکہ ایک نئی تبدیلی سے جو دلوں میں پیدا ہوگی باطل ہلاک ہو گا۔ یہی تفسیر لفظ يَكْسِرُ الصَّلِيْبَ اور يَضَعُ الْحَرْبَ کی ہے۔ یہ غلط اور جھوٹا خیال ہے کہ جھاد ہوگا ۔ بلکہ حدیث کے معنے یہ ہیں کہ آسمانی حربہ جو مسیح موعود کے ساتھ نازل ہو گا یعنی آسمانی نشان اور نئی ہوا یہ دونوں باتیں و جالیت کو ہلاک کریں گی اور سلامتی اور امن کے ساتھ حق اور توحید اور صدق اور ایمان کی ترقی ہوگی اور عداوتیں اُٹھ جائیں گی۔ اور صلح کے ایام آئیں گے ۔ تب دنیا کا اخیر ہوگا۔ اسی وجہ سے ہم نے اس کتاب کا نام بھی ایام الصلح رکھا۔ غرض فقرہ حدیث يَكْسِرُ الصَّلِيْب کا اِسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس مسیح موعود کے ظہور تک عیسائی مذہب خوب ترقی کرتا جائے گا اور ہر طرف پھیلے گا اور بڑی قوت اور شوکت اُس میں پیدا ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ مذاہب کے حصوں میں سے ایک بڑا حصہ ٹھہر جائے گا۔ لیکن جب مسیح موعود کا ظہور ہو گا تب وہ دن عیسائی مذہب کے لئے تنزل کے ہوں گے اور خدا تعالیٰ ایک ایسی ہوا چلائے گا اور ایسا فہم و فراست دلوں میں پیدا کرے گا جس سے تمام سلیم دل سمجھ جائیں گے کہ انسان کو خدا بنا نا غلطی اور کسی کی پھانسی سے حقیقی نجات ڈھونڈ نا خطا ہے۔ اور ان دنوں میں یہ امر ثابت بھی ہو گیا کیونکہ بڑے بڑے پادری صاحبوں نے یہ اشتہار شائع کر دیئے ہیں کہ اس زمانہ میں یکدفعہ عیسائی مذہب تنزل کی صورت میں آگیا ہے اور اسلام کے مقابل پر اگر دیکھا جائے تو (۵۳) با وجود کروڑ ہا روپیہ خرچ کرنے کے اسلام دن بدن ترقی میں بڑھا ہوا ہے اور یورپ کے روشن دماغ لوگ تنگیشی مذہب سے نفرت کرتے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس ملک میں بھی چوہڑوں چماروں کی طرف توجہ کرنی پڑی۔ اور حدیثوں میں جو ہے کہ مسیح موعود صلیب کو توڑے گا اس سے