ایّام الصّلح — Page 279
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۷۹ امام الصلح دنیا میں نہ بھیجا اور تاویلوں کی حاجت پڑی اور ظاہر الفاظ کے رو سے یہودیوں کا یہ عذر بہت معقول تھا کہ جس حالت میں بچے مسیح کے آنے کے لئے یہ شرط تھی کہ پہلے ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آ جائے تو پھر بغیر ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کے کیونکر مسیح ابن مریم دنیا میں آگیا۔ اب جب کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف سے یہودیوں کو یہ جواب ملا ہے کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے سے یوحنا نبی یعنی بیٹی کا آنا مراد تھا تو ایک دیندار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ عیسی ابن مریم کا دوبارہ آنا بھی اسی طرز سے ہوگا کیونکہ بیروہی سنت اللہ ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا علاوہ ان باتوں کے مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کو یہ آیت بھی روکتی ہے وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ اور ایسا ہی یہ حدیث بھی کہ لانبی بعدی ۔ یہ کیونکر جائز ہو سکتا ہے که باوجود یکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں پھر کسی وقت دوسرا نبی آ جائے اور وحتی نبوت شروع ہو جائے ؟ کیا یہ سب امور حکم نہیں کرتے کہ اس حدیث کے معنے کرنے کے وقت ضرور ہے کہ الفاظ کو ظاہر سے پھیرا جائے ۔ ماسوا اس کے ایک بڑا قرینہ اس بات پر کہ آنے والا مسیح موعود غیر اس مسیح کا ہے جو گذر چکا اختلاف حلیوں کا ہے۔ کیونکہ صحیح بخاری میں جو اصح الحُب بَعْدَ کتاب اللہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ سُرخ رنگ لکھا ہے ۔ جیسا کہ بلاد شام کے لوگوں کا ہے رنگ ہوتا ہے اور جیسا کہ تصویروں میں دکھایا گیا ہے اور گھنگریالے بال لکھے ہیں۔ لیکن مسیح موعود جس کی اس اُمت میں آنے کی خبر دی گئی ہے اُس کا حلیہ گندم گوں اور سید ھے بالوں والا بیان کیا ہے اور علاوہ اس کے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اسی اُمت میں سے ہو گا بخاری کے یہ لفظ ہیں کہ إمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور مسلم کے یہ لفظ ہیں فَامُكُمْ مِنْكُمْ دونوں سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ آنے والا مسیح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہے اور اگر یہ کہو کہ " کیوں جائز نہیں کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہوں اور آنے والا کوئی بھی نہ ہو۔ تو میں کہتا ہوں کہ ایسا خیال بھی سراسر ظلم ہے۔ کیونکہ یہ حدیثیں ایسے تواتر کی حد تک پہنچ گئی ہیں کہ عند العقل ان کا کذب محال ہے اور ایسے متواترات بدیہیات کے رنگ میں ہو جاتے ہیں۔ ماسوا اس کے ان حدیثوں میں جو بڑی بڑی الاحزاب : ٦٣ الاحزاب : ام