ایّام الصّلح — Page 278
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۷۸ امام الصلح یہ سوال باقی رہا کہ پھر ان حدیثوں کے کیا معنے ہیں کہ عیسی ابن مریم آخری زمانہ میں نازل ہو گا؟ اس کا جواب ہم ابھی دے چکے ہیں کہ یہ حدیثیں ظاہری معنوں پر ہر گز محمول نہیں ہو سکتیں کیونکہ قرآن شریف میں یعنی آیت قُلْ سُبْحَانَ رَبِّى هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًار سُولًا میں صاف فرمایا گیا ہے کہ عادت اللہ میں یہ امر داخل نہیں کہ کوئی انسان اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلا جائے اور پھر آسمان سے نازل ہو اور نہ اب تک کسی زمانہ میں یہ عادت اللہ ثابت ہوئی کہ کوئی شخص دنیا سے جا کر پھر واپس آیا ہو۔ اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی آج تک ایک بھی نظیر اس قسم کی واپسی کی پائی نہیں گئی ۔ مگر اس بات کی نظیر پہلی کتابوں میں موجود ہے کہ جس شخص کے پھر دوبارہ دنیا میں آنے کا وعدہ دیا گیا وہ وعدہ اس طرح پر پورا ہوا کہ کوئی اور شخص اُس کی خُو اور طبیعت پر آ گیا۔ جیسا کہ ایلیا نبی کا دوبارہ دنیا میں آنا یہود کو وعدہ دیا گیا تھا بلکہ لکھا گیا تھا کہ ضرور ہے کہ مسیح سے پہلے ایلیا دوبارہ دنیا میں آ جائے مگر وہ وعدہ اپنی ظاہری صورت میں آج تک پورا نہیں ہوا حالانکہ مسیح یعنی حضرت عیسی علیہ السلام جس کے آنے کا وعدہ تھا وہ دنیا میں آکر ۴۷ دنیا سے اُٹھایا بھی گیا۔ پس کچھ شک نہیں کہ وہ وعدہ جیسا کہ حضرت مسیح نے اس پیشگوئی کے معنے کئے باطنی طور پر پورا ہو گیا یعنی حضرت یونتا جس کا نام بیٹی بھی ہے ایلیا کی خو اور طبیعت پر دنیا میں آیا گویا ایلیا آ گیا۔ اب نظیر مذکورہ بالا کے لحاظ سے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ضرور ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا وعدہ بھی اسی رنگ اور طرز سے ظہور پذیر ہو جیسا کہ ایلیا کے دوبارہ آنے کا وعدہ ظہور پذیر ہوا اور نہ یہودیوں کی طرز پر مسیح کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کو ظاہری معنوں پر محمول کرنا گویا حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت سے انکار کرنا ہے۔ کیونکہ اگر کسی کا دوبارہ دنیا میں آنا سنت اللہ میں داخل تھا تو اس صورت میں یہودیوں کا یہ اعتراض نہایت درست اور بجا ہوگا کہ ایلیا نبی حسب وعدہ ملا کی نبی کے کیوں مسیح سے پہلے دوبارہ دنیا میں نہ آیا ؟ اور جس صورت میں سنت الہی میں یہ داخل تھا کہ کوئی شخص دنیا سے گیا ہوا پھر دنیا میں آوے تو گویا نعوذ باللہ اللہ جل شانہ نے دانستہ یہودیوں کے سامنے حضرت مسیح کو خفیف اور نا دم کیا کہ اُن سے پہلے ایلیا نبی کو دوبارہ بنی اسرائیل: ۹۴