ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 550

ایّام الصّلح — Page 268

۳۸ روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۶۸ اتمام اصلح ۱۸ ایک نظیر بھی پیش نہیں کر سکتا اور نہیں دکھلا سکتا کہ کوئی جھوٹا الہام کا دعویٰ کرنے والا پچیس برس تک یا اٹھارہ برس تک جھوٹے الہام دنیا میں پھیلاتا رہا اور جھوٹے طور پر خدا کا مقرب اور خدا کا مامور اور خدا کا فرستادہ اپنا نام رکھا اور اُس کی تائید میں سالہائے دراز تک اپنی طرف سے الہامات تراش کر مشہور کرتا رہا اور پھر وہ باجود ان مجرمانہ حرکات کے پکڑا نہ گیا کیا اُمید کی جاتی ہے کہ کوئی ہما را مخالف اس سوال کا جواب دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ اُن کے دل جانتے ہیں کہ وہ ان سوالات کے جواب دینے سے عاجز ہیں مگر پھر بھی انکار سے باز نہیں آتے بلکہ بہت سے دلائل سے اُن پر حجت وارد ہو گئی مگر وہ خواب غفلت میں سورہے ہیں۔ اہل حق کے نزدیک اس امر میں اتمام حجت اور کامل تسلی کا ذریعہ چار طریق ہیں (۱) اول نصوص صریحہ کتاب اللہ یا احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ جو آنے والے شخص کی ٹھیک ٹھیک علامات بتلاتی ہوں اور بیان کرتی ہوں کہ وہ کس وقت ظاہر ہو گا اور اس کے ظاہر ہونے کے نشان کیا ہیں اور نیز حضرت عیسی کی وفات یا عدم وفات کا جھگڑا فیصلہ کرتی ہوں (۲) دوم وہ دلائل عقلیہ اور مشاہدات حسیہ جو علوم قطعیہ پر مبنی ہوں جن سے گریز کی کوئی راہ نہیں (۳) وہ ( تائیدات سماویہ جو نشانوں اور کرامات کے رنگ میں مدعی صادق کے لئے اُس کی دعا اور کرامت سے ظہور میں آئی ہوں تا اس کی سچائی پر نشان آسمانی کی زندہ گواہی کی مہر ہو۔ (۴) چہارم اُن ابرار اور اخیار کی شہادتیں جنہوں نے خدا سے الہام پا کر ایسے وقت میں گواہی دی ہو کہ جبکہ مدعی کا نشان نہ تھا کیونکہ وہ گواہی بھی ایک غیب کی خبر ہونے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا نشان ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ یہ چاروں طریق اتمام حجت اور کامل تسلی کے اس جگہ جمع ہو گئے ہیں۔ مگر پھر بھی ہمارے اندرونی مخالفوں کو اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں۔ ہم ذیل میں ان چاروں اتمام حجت کے طریقوں کو لکھتے ہیں اور حق کے طالبوں کو اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہ ان مخالفوں سے پوچھیں کہ ان دلائلِ بینہ سے کیوں روگردانی کرتے ہیں؟ کیا ضرور نہ تھا کہ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے یہ تو ظاہر ہے کہ جو امر وقوع میں آ جائے وہ یقینی ہے اور جو