ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 550

ایّام الصّلح — Page 267

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۶۷ امام الصلح نے کیا۔ جن ثابت شدہ علامتوں اور نشانوں سے قبول کرنے کی روشنی پیدا ہوسکتی ہے۔ ان کو قبول نہیں کرتے اور جو استعارات اور مجازات اور متشابہات ہیں اُن کو ہاتھ میں لئے پھرتے ہیں اور عوام کو دھوکا دیتے ہیں کہ یہ باتیں پوری نہیں ہوئیں حالانکہ سنت اللہ کی تعلیم ، طریق کے موافق ضرور تھا کہ وہ باتیں اس طرح پوری نہ ہوتیں جس طرح اُن کا خیال ہے یعنی ظاہری اور جسمانی صورت پر بے شک ایک حصہ ظاہری طور پر اور ایک حصہ مخفی طور پر پورا ہو گیا۔ لیکن اس زمانہ کے متعصب لوگوں کے دلوں نے ۳۷) نہیں چاہا کہ قبول کریں۔ وہ تو ہر ایک ثبوت کو دیکھ کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ وہ خدا کے نشانوں کو انسان کی مکاری خیال کرتے ہیں۔ جب خدائے قدوس کے پاک الہاموں کو سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انسان کا افترا ہے مگر اس بات کا جواب نہیں دے سکتے کہ کیا کبھی خدا پر افترا کرنے والے کو مفتریات کے پھیلانے کے لئے وہ مہلت ملی جو نیچے ملہموں کو خدا تعالی کی طرف سے ملی ؟ کیا خدانے نہیں کہا کہ الہام کا افترا کے طور پر دعویٰ کرنے والے ہلاک کئے جائیں گے اور خدا پر جھوٹ باندھنے والے پکڑے جائیں گے؟ یہ تو توریت میں بھی ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جائے گا اور انجیل میں بھی ہے کہ جھوٹا جلد فنا ہوگا اور اس کی جماعت متفرق ہو جائے گی ۔ کیا کوئی ایک نظیر بھی ہے کہ جھوٹے ملہم نے جو خدا پر افترا کرنے والا تھا ایام افترا میں وہ عمر پائی جو اس عاجز کو ایام دعوت الہام الہی میں ملی ؟ بھلا اگر کوئی نظیر ہے تو پیش تو کرو۔ میں نہایت پر زور دعوے سے کہتا ہوں کہ دُنیا کی ابتدا سے آج تک ایک نظیر بھی نہیں ملے گی۔ پس کیا کوئی ایسا ہے کہ اس محکم اور قطعی دلیل سے فائدہ اُٹھاوے اور خدا تعالیٰ سے ڈرے؟ میں نہیں کہتا کہ بُت پرست عمر نہیں پاتے یاد ہر یہ اور آنا الحق کہنے والے جلد پکڑے جاتے ہیں کیونکہ ان غلطیوں اور ان ضلالتوں کی سزادینے کے لئے دوسرا عالم ہے لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص خدا تعالیٰ پر الہام کا افترا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ الہام مجھ کو ہوا حالانکہ جانتا ہے کہ وہ الہام اُس کو نہیں ہوا وہ جلد پکڑا جاتا ہے اور اس کی عمر کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ قرآن اور انجیل اور توریت نے یہی گواہی دی ہے۔ عقل بھی یہی گواہی دیتی ہے اور اس کے مخالف کوئی منکر کسی تاریخ کے حوالہ سے