ایّام الصّلح — Page 269
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۶۹ امام الصلح وقوع میں نہیں آیا وہ ہنوز لگی ہے اور معلوم نہیں کہ کس پہلو سے وقوع میں آوے آیا ظاہری طور پر یا مجازات کے رنگ میں۔ کیونکہ پیشگوئیوں میں دونوں احتمال ہوتے ہیں لیکن جو حصہ وقوع میں آکر یقینی مرتبہ تک پہنچ گیا ہے۔ وہ یہی چاہتا ہے کہ جو امور اس کے نقیض واقع ہوں وہ استعارات کے رنگ میں ظاہر ہوں ۔ تاخدا کی پیشگوئیوں میں تناقض لازم نہ آوے۔ اور وہ دلائل یہ ہیں:۔ (1) حق کے طالبوں کے لئے سب سے پہلے میں یہ امر پیش کرتا ہوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات قرآن شریف سے ثابت ہے۔ اس سے زیادہ کیا ثبوت ہو گا کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى نے صاف اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ عیسائی عقیدہ میں جس قدر بگاڑ اور فساد ہوا ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا۔ اب اگر حضرت عیسی کو زندہ مان لیں اور کہیں کہ اب تک وہ فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ نصاری نے بھی اب تک (۳۹) اپنے عقائد کو نہیں بگاڑا کیونکہ آیت موصوفہ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نصاری کے عقیدوں کا بگڑنا حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوگا۔ رہی یہ بات کہ توفی کے اس جگہ کیا معنے ہیں؟ اس کا فیصلہ نہایت صفائی سے صحیح بخاری میں ہو گیا ہے کہ توفی مارنے کو کہتے ہیں ۔ یہ قول ابن عباس ہے جس کو حدیث كما قَالَ الْعَبُدُ الصَّالح کے ساتھ بخاری میں اور بھی تقویت دی گئی ہے اور شارح عینی نے اس قول کا اسناد بیان کیا ہے۔ اب ایک تسلی ڈھونڈ نے والا سمجھ سکتا ہے کہ قرآن شریف اور اس کتاب میں جو اصَحُ الكتب بَعْدَ كِتاب اللہ ہے صاف گواہی دی گئی ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے اور اس شہادت میں صرف امام بخاری رضی اللہ عنہ متفرد نہیں بلکہ امام ابن حزم اور امام مالک رضی اللہ عنہما بھی موت عیسی علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا امت کے تمام اکابر کا قائل ہونا ہے کیونکہ اس زمانہ کے اکابر علماء سے مخالفت منقول نہیں اور اگر مخالفت کرتے تو البتہ کسی کتاب میں اُس کا ذکر ہوتا۔ اس جگہ یادر ہے کہ ہمارے دعوی کی بنیاد حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہے ۔ اب دیکھو یہ بنیا د کس قدر مضبوط اور محکم ہے جس کی صحت پر قرآن شریف گواہی دے رہا ہے۔ المائدة : ١١٨