ایّام الصّلح — Page 266
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۶۶ امام الصلح وہ ظاہری طور پر ضرور پورا ہوگا اور پھر جب وقت آتا ہے اور کوئی مامور من اللہ پیدا ہوتا ہے تو جو جو علامتیں اُس کے صدق کی نسبت ظاہر ہو جائیں اُن کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور جو علامتیں ظاہری صورت میں پوری نہ ہوں یا ابھی اُن کا وقت نہ آیا ہو ان کو بار بار پیش کرتے ہیں۔ ہلاک شدہ اُمتیں جنہوں نے بچے نبیوں کو نہیں مانا اُن کی ہلاکت کا اصل موجب یہی تھا اپنے زعم میں تو وہ لوگ اپنے تئیں بڑے ہوشیار جانتے رہے ہیں مگر اُن کے اس طریق نے حق کے قبول سے اُن کو بے نصیب رکھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ پیشگوئیوں کی ناہمی کے بارے میں جو کچھ پہلے زمانہ میں یہود اور نصاری سے وقوع میں آیا اور انہوں نے بچوں کو قبول نہ کیا۔ ایسا ہی میری قوم مسلمانوں نے میرے ساتھ معاملہ کیا۔ یہ تو ضروری تھا کہ قدیم سنت اللہ کے موافق وہ پیشگوئیاں جو مسیح موعود کے بارے میں کی گئیں وہ بھی دو حصوں پر مشتمل ہوتیں۔ ایک حصہ ہینات کا جو اپنی ظاہر صورت پر واقع ہونے والا تھا اور ایک حصہ متشابہات کا جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں تھا۔ لیکن افسوس کہ اس قوم نے بھی پہلے خطا کار لوگوں کے قدم پر قدم مارا اور متشابہات پر اڑ کر ان بینات کو رڈ کر دیا جو نہایت صفائی سے پوری ہو گئی تھیں۔ حالانکہ شرط تقویٰ یہ تھی کہ پہلی قوموں کی ابتلاؤں کو یاد کرتے متشابہات پر زور نہ مارتے اور بینات سے یعنی ان باتوں اور اُن علامتوں سے جو روز روشن کی طرح کھل گئی تھیں فائدہ اُٹھاتے ۔ مگر وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی وہ پیشگوئیاں پیش کی جاتی ہیں جن کے اکثر حصے نہایت صفائی سے پورے ہو چکے ہیں تو نہایت لا پرواہی سے اُن سے منہ پھیر لیتے ہیں اور پیشگوئیوں کی بعض باتیں جو استعارات کے رنگ میں تھیں پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حصہ پیشگوئیوں کا کیوں ظاہری طور پر پورا نہیں ہوا؟ اور بائیں ہمہ جب پہلے مکذبوں کا ذکر آوے جنہوں نے بعینہ اُن ہی لوگوں کی طرح واقع شدہ علامتوں پر نظر نہ کی اور متشابہات کا حصہ جو پیشگوئیوں میں تھا اور استعارات کے رنگ میں تھا اس کو دیکھ کر کہ وہ ظاہری طور پر پورا نہیں ہوا حق کو قبول نہ کیا ۔ تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم اُن کے زمانہ میں ہوتے تو ایسا نہ کرتے حالانکہ اب یہ لوگ ایسا ہی کر رہے ہیں جیسا کہ اُن پہلے مکذبوں