ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 550

ایّام الصّلح — Page 265

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۶۵ اتمام اصلح مسلمانوں کے اولوالا بھار کو چاہیے کہ ان سے عبرت پکڑیں اور صرف متشابہات پر نظر رکھ کر تکذیب میں جلدی نہ کریں اور جو باتیں خدا تعالی کی طرف سے گھل جائیں اُن سے اپنی ہدایت کے لئے فائدہ اُٹھا دیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا ۔ پس پیشگوئیوں کا وہ حصہ جو ظاہری طور پر ابھی پورا نہیں ہوا وہ ایک امریکی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کی طرح وہ حصہ استعارہ یا مجاز کے رنگ میں پورا ہو گیا ہومگر انتظار کرنے والا اس غلطی میں پڑا ہو کہ وہ ظاہری طور پر کسی دن پورا ہوگا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض احادیث کے الفاظ محفوظ نہ رہے ہوں کیونکہ احادیث کے الفاظ وحی متلو کی طرح نہیں اور اکثر احادیث احاد کا مجموعہ ہیں۔ اعتقادی امر تو الگ بات ہے۔ جو چاہو اعتقاد کرو مگر واقعی اور حقیقی فیصلہ یہی ہے کہ احاد میں عند العقل امکان تغیر الفاظ ہے۔ چنانچہ ایک ہی حدیث جو مختلف طریقوں اور مختلف راویوں سے پہنچتی ہے اکثر ان کے الفاظ اور ترتیب میں بہت سا فرق ہوتا ہے ۔ حالانکہ وہ ایک ہی وقت میں ایک ہی منہ سے نکلی ہے۔ پس صاف سمجھ آتا ہے کہ چونکہ اکثر راویوں کے الفاظ اور طرز بیان جُدا جُدا ہوتے ہیں اس لئے اختلاف پڑ جاتا ہے۔ اور نیز پیشگوئیوں کے متشابہات کے حصہ میں یہ بھی ممکن ہے کہ بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہو نا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجاً ظاہر ہوں یا کسی اور شخص کے واسطہ سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کہ قیصر و کسری کے خزانوں کی گنجیاں آپ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے تھے اور آنجناب نے نہ قیصر اور کسری کے خزانہ کو دیکھا اور نہ گنجیاں دیکھیں ۔ مگر چونکہ مقد رتھا کہ وہ گنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلمی طور پر گویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا۔ اس لئے عالم وحی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ قرار دیا گیا ۔ خلاصہ کلام یہ کہ دھوکا کھانے والے اسی مقام پر دھوکا کھاتے ہیں وہ اپنی بدقسمتی سے پیشگوئی کے ہر ایک حصہ کی نسبت یہ امید رکھتے ہیں کہ