آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxiv of 550

آریہ دھرم — Page xxxiv

مدلّل اور بیش قیمت رائے پبلک کے پیش فرمائی تھی اُس میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادی<mark>ان</mark>، جناب سرسید احمد صاحب آف علی گڑھ کو <mark>ان</mark>تخاب فرمایا تھا اور ساتھ ہی <mark>اس</mark> <mark>اس</mark>لامی وکالت کا قرعہ حضرات ذیل کے <mark>نام</mark> نکالا تھا۔جناب مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی، جناب مولوی حاجی سید محمد علی صاحب ک<mark>ان</mark>پوری اور مولوی احمد حسین صاحب عظیم آبادی، یہاں یہ ذکرکر دینا بھی <mark>نام</mark>ن<mark>اس</mark>ب نہ ہو گا کہ ہمارے ایک لوکل اخبار کے ایک <mark>نام</mark>ہ نگار نے جناب مولوی عبدالحق صاحب دہلوی مصنّف تفسیر حقّ<mark>ان</mark>ی کو <mark>اس</mark> کام کیلئے منتخب فرمایا تھا۔‘‘ اِس کے بعد سوامی شوگن چندر کے اشتہار سے اُس حصّہ کو نقل کر کے جس میں <mark>ان</mark>ہوں نے علمائے مذاہب مختلفہ ہند کو بہت عار دلا دلا کر اپنے اپنے مذہب کے جوہر دکھل<mark>ان</mark>ے کے لئے طلب کیا تھا۔یہ اخبار لکھتا ہے:۔’’اِس جلسے کے اشتہاروں وغیرہ کے دیکھنے اور دعوتوں کے پہنچنے پر کِن کِن علمائے ہند کی رگِ حمیّت نے مقدس دینِ <mark>اس</mark>لام کی وکالت کے لئے جوش دکھایا اور کہاں تک <mark>ان</mark>ہوں نے <mark>اس</mark>لامی حمایت کا بیڑہ اُٹھا کر حجج و براہین کے ذریعے فرق<mark>ان</mark>ی ہیبت کا سکّہ غیر مذاہب کے دل پر بٹھ<mark>ان</mark>ے کے لئے کوشش کی ہے۔ہمیں معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ کارکن<mark>ان</mark>ِ جلسہ نے خاص طور پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب اور سرسید احمد صاحب کو شریک جلسہ ہونے کے لئے خط لکھا تھا حضرت مرزا صاحب تو علالت طبع کی وجہ سے بنفسِ نفیس شریک جلسہ نہ ہو سکے۔مگر اپنا مضمون بھیج کر اپنے ایک شاگردِ خاص جناب مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کو <mark>اس</mark> کی قراء ت کے لئے مقرر فرمایا۔لیکن جناب سرسیّد نے شریک جلسہ ہونے اور مضمون بھیجنے سے کنارہ کشی فرمائی۔یہ <mark>اس</mark> بنا پر نہ تھا کہ وہ معمّرہو چکے ہیں اور ایسے جلسوں میں شریک ہونے کے قابل نہ رہے ہیں۔اور نہ <mark>اس</mark> بنا پر تھا کہ اُنہی ایّام میں ایجوکیشنل ک<mark>ان</mark>فرنس کا <mark>ان</mark>عقاد میرٹھ میں مقرر ہو چکا تھا بلکہ یہ اِس بنا پر تھا کہ مذہبی جلسے