آریہ دھرم — Page 83
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۸۳ آریہ دھرم سے خلوت میں سنا ہے کہ جب ہم کبھی مسیح کی خدائی کا بازاروں میں وعظ کرتے ہیں تو بعض وقت مسیح کے عجز اور اضطرار کی سوانح پیش نظر آ جانے سے بات کرتے کرتے ایسا انفعال دل کو پکڑتا ہے کہ بس ہم ندامت میں غرق ہی ہو جاتے ہیں ۔ غرض انسان کو خدا بنانے والا کیا وعظ کرے گا اور کیونکر اِس عاجز انسان میں اُس قادر خدا کی عظمت کا نمونہ دکھائے گا جس کے ۲۱ بقیہ حکم سے ایک ذرہ بھی زمین و آسمان سے باہر نہیں اور جس کا جلال دکھلانے کے لئے سورج چمکتا اور زمین طرح طرح کے پھول نکالتی ہے ایسا ہی ایک آریہ کیا وعظ کرے گا کیا وہ دانشمندوں کے سامنے یہ کہہ سکتا ہے کہ تمام روحیں اور ان کی قوتیں اور طاقتیں اپنے وجود کی آپ ہی خدا ہیں اور کسی کے سہارے سے ان کا وجود اور بقاء نہیں اور یا یہ کہہ سکتا ہے کہ وید کی یہ تعلیم عمدہ ہے کہ خاوند والی عورتیں اولاد کی غرض سے دوسروں سے ہم بستر ہو جایا کریں ابھی ہمیں تجربہ ہوا ہے کہ جب ہماری بعض جماعت کے لوگوں نے کسی آریہ یا اُنکے پنڈت سے نیوگ کی حقیقت بازار میں پوچھی جہاں بہت سے آدمی موجود تھے تو وہ آریہ کہ تین لاکھ سے بھی کچھ زیادہ شیر خوار بچے قتل کئے گئے گویا حضرات پادریوں کی نظر میں اس نرمی کی وجہ سے اسلام کی لڑائیاں قابل اعتراض ٹھہریں کہ اُن میں وہ سختی نہیں جو حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی لڑائیوں میں تھی اگر اس درجہ کی سختی پر یہ لڑائیاں بھی ہوئیں تو قبول کر لیتے کہ در حقیقت یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اب ہر یک عقلمند کے سوچنے کے لائق ہے (۶۱) کہ کیا یہ جواب ایمانداری کا جواب ہے حالانکہ آپ ہی کہتے ہیں کہ خدا رحم ہے اور اس کی سزا رحم سے خالی نہیں۔ پھر جب موسیٰ کی لڑائیاں باوجود اس سختی کے قبول کی گئیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ٹھہریں تو کیوں اور کیا وجہ کہ یہ لڑائیاں جو الہی رحم کی خوشبو ساتھ رکھتی ہیں خدا تعالی کی طرف سے نہ ہو ئیں اور ایسے لوگ کہ اُن باتوں کو بھی خدا تعالیٰ کے احکام مجھتے ہیں کہ شیر خوار بچے اُن کی ماؤں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں اور ماؤں کو ان کے بچوں کے سامنے بے رحمی سے مارا جاوے وہ کیوں ان لڑائیوں کو خدا تعالی کی طرف سے نہ سمجھیں جن میں یہ شرط ہے کہ پہلے مظلوم ہوکر پھر ظالم کا مقابلہ کرو ۔ منہ حاشیہ