آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 550

آریہ دھرم — Page 82

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۸۲ آریہ دھرم کی عنایات سے ہر ایک کو اشاعت مذہب کے لئے آزادی ملی ہے لیکن اگر سوچ کر دیکھا جائے تو اُس آزادی کا پورا پورا فائدہ محض مسلمان اٹھا سکتے ہیں اور اگر عمداً آپ نہ 10) اٹھاویں تو اُن کی بدقسمتی ہے وجہ یہ ہے کہ گورنمنٹ نے اپنی عام مہربانیوں کی وجہ سے مذہبی آزادی کا ہر یک قوم کو عام فائدہ دیا اور کسی کو اپنے اصولوں کی اشاعت سے نہیں روکا لیکن جن مذہبوں میں سچائی کی قوت اور طاقت نہیں اور اُنکے اصول صرف انسانی بناوٹ ہیں اور ایسے قابل مضحکہ ہیں جو ایک محقق کو ان کی بیہودہ کتھا اور کہانیاں سنکر بے اختیار ہنسی آجاتی ہے کیونکر اُن مذہبوں کے واعظ اپنی ایسی باتوں کو وعظ کے وقت دلوں میں جما سکتے ہیں اور کیونکر ایک پادری مسیح کو خدا کہتے ہوئے ایک دانشمند شخص کو اس حقیقی خدا پر ایمان رکھنے سے برگشتہ کر سکتا ہے جس کی ذات مرنے اور مصیبتوں کے اٹھانے اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہونے اور پھر مصلوب ہو جانے سے پاک ہے اور جس کا جلالی نام قانون قدرت کے ہر یک صفحہ میں چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہم نے خود بعض منصف مزاج عیسائیوں اپنے ظالمانہ کاموں کی وجہ سے اس لائق ٹھہر گئے کہ اُن پر موافق سنت قدیمہ الہیہ کے کوئی عذاب نازل ہو اور اس عذاب کی وہ قو میں بھی سزاوار تھیں جنہوں نے مکہ والوں کو مدد دی اور نیز وہ قو میں بھی جنہوں نے اپنے طور سے ایذا اور تکذیب کو انتہا تک پہنچایا اور اپنی طاقتوں سے اسلام کی اشاعت سے مانع آئے سوجنہوں نے اسلام پر تلواریں اٹھا ئیں وہ اپنی شوخیوں کی وجہ سے تلواروں سے ہی ہلاک کئے گئے اب اس صورت کی لڑائیوں پر اعتراض کرنا اور حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی اُن لڑائیوں کو بھلا دینا جن میں لاکھوں شیر خوار بچے قتل کئے گئے کیا یہ دیانت کا طریق ہے یا ناحق کی شرارت اور خیانت اور فساد انگیزی ہے۔ اس کے جواب میں حضرات عیسائی یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں میں بہت ہی نرمی پائی جاتی ہے کہ اسلام لانے پر چھوڑا جاتا تھا اور شیر خوار بچوں کو قتل نہیں کیا اور نہ عورتوں کو اور نہ بڑھوں کو اور نہ فقیروں اور مسافروں کو مارا اور نہ عیسائیوں اور یہودیوں کے گر جاؤں کو مسمار کیا لیکن اسرائیلی نبیوں نے ان سب باتوں کو کیا یہاں تک حاشیہ