آریہ دھرم — Page 84
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۸۴ آریہ دھرم یا پنڈت شرمندہ ہوا اور چپکے سے کہا کہ آپ اندر چل کر مجھ سے یہ گفتگو کریں بازار میں لوگ سن کر ہنسی کرتے ہیں اب ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا اپنا ہی یہ حال ہے کہ ایسے عقائد اور اعمال کی نسبت اپنا ہی کانشنس ان کا اُن کے عقیدہ کو دھکے دیتا ہے اور قبول نہیں کرتا تو پھر وہ غیروں کو کیا وعظ کریں گے اس لئے مسلمانوں کو نہایت ہی گورنمنٹ کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ گورنمنٹ کے اس قانون کا وہی اکیلے فائدہ اٹھا رہے ہیں بیچارے پادری صد ہارو پیہ خرچ کر کے ایک ہندو کو قابو میں لاتے ہیں اور وہ آخر بعد آزمائش مسلمانوں کی طرف آ جاتا ہے اور یا صرف پیٹ کا بندہ ہو کر محض دنیوی لالچ سے اُنہیں میں گزارہ کرتا ہے لیکن ہمیں اپنے دل آزار ہمسایوں مخالفوں سے ایک اور شکایت ہے اگر ہم اُس شکایت کے رفع کے لئے اپنی محسن اور مہربان گورنمنٹ کو اس طرف توجہ نہ دلاویں تو کس کو دلا دیں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی مخالف صرف بے اصل روایات اور بے بنیاد قصوں پر بھروسہ کر کے جو ہماری کتب مسلّمہ ۲۲ اور مقبولہ کی رو سے ہر گز ثابت نہیں ہیں بلکہ منافقوں کے مفتریات ہیں ہمارا دل دکھاتے ہیں اور ایسی باتوں سے ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں اور گالیوں تک نوبت پہنچاتے ہیں جن کا ہماری معتبر کتابوں میں نام و نشان نہیں اس سے زیادہ ہمارے دل دکھانے کا اور کیا موجب ہوگا کہ چند بے بنیاد افتراؤں کو پیش کر کے ہمارے اس سید و مولی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر زنا اور بدکاری کا الزام لگانا چاہتے ہیں جس کو ہم اپنی پوری تحقیق کی رو سے سید المعصومین اور ان تمام پاکوں کا سردار سمجھتے ہیں جو عورت کے پیٹ سے نکلے اور اس کو خاتم الانبیاء جانتے ہیں کیونکہ اُس پر تمام نبوتیں اور تمام پاکیز گیاں اور تمام کمالات ختم ہو گئے اس صورت میں صرف یہی ظلم نہیں کہ ناحق اور بے وجہ ہمارا دل دکھایا جاتا ہے اور اس انصاف پسند گورنمنٹ کے ملک میں ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جاتی ہیں اور بڑے بڑے پیرایوں میں ہمارے اس مقدس مذہب کی توہین کی جاتی ہے بلکہ یہ ظلم بھی ہوتا ہے کہ ایک حق اور راست راست امر کو محض یاوہ گوئی کے ذخیرہ سے مشتبہ اور کمزور کرنے کے لئے کوشش کی جاتی ہے اگر گورنمنٹ کے بعض اعلیٰ درجہ کے حکام دو تین روز اس بات پر