آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 550

آریہ دھرم — Page 74

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۷۴ آریہ دھرم ڈاکٹروں کے ذریعہ مثل فوجی سپاہیوں کے ملاحظہ کرایا جاوے گا اس سے فریقین کے مرض مذکور سے پاک ہونے کی وجہ سے ڈاکٹری معائنہ کی ہمیشہ کے لئے ضرورت ہی نہ رہے گی۔ اس طرح بغیر قانون دکھائی جاری کرنے کے سپاہیوں کی خواہش نفسانی کے لئے عمدہ طور سے انتظام ہو سکتا ہے۔ اس بات سے تو کوئی انکار ہی نہیں کر سکتا کہ ولایت میں مثل ہندوستان کے فاحشہ عورتیں موجود ہیں۔ اس لئے گورنمنٹ کو اس انتظام میں ذرا بھی وقت نہ ہوگی بلکہ ہمیں یقین ہے ا کہ یورپ کی مہذب کسبیاں بہادر سپاہیوں کو خوش رکھنے کے لئے نہایت خوشی سے اپنی خدمات سپرد کر دیں گی۔ رہی یہ بات کہ ان عورتوں کے ہندوستان لانے اور واپس لے جانے میں گورنمنٹ کو رقم کثیر خرچ کرنی پڑے گی۔ اس کا ہندوستان کے باشندوں کو ذرا بھی رنج نہ ہوگا جہاں وہ ملٹری ڈیپارٹمنٹ کے اخراجات کے لئے پہلے سے ہی لا تعداد روپیہ خوشی سے دیتے ہیں اس رقم کے اضافہ سے بھی ہرگز انہیں اختلاف نہ ہوگا بلکہ وہ اس تجویز کو جس سے ہندوستان کی بد بخت عورتوں کی عفت بیچ رہے گی اور برٹش گورنمنٹ کے بہادر گورے سپاہی تندرست اور خوش رہ سکیں گے نہایت خوشی سے پسند کریں گے۔ اگر گورنمنٹ ہند کو یہ مطلوب ہے کہ ہندوستان کے نوجوان بھی جن میں دیسی پلٹنوں اور رسالوں کے سپاہی بھی شامل ہیں بازاری عورتوں کے ذریعہ مریض ہونے سے بچ رہیں تو ہم تمام ہندوستان کی فاحشہ عورتوں کیلئے قانون دکھائی کے جاری ہونے کو صدق دل سے پسند کرتے ہیں۔ کسی شریف ہندوستانی کو ان بد کار فاحشہ عورتوں کے ساتھ جو تمام قسم کے لوگوں کیلئے باعث خرابی ہیں ذرا بھی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ ہم قبل ازیں بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایسی عورتوں کیلئے جنہوں نے اپنے خاندان کے ناموس کو خیر باد کہہ دی ہے قانون دکھائی کی آزمائش باعث شرم نہیں ہو سکتی ہے وہ عورتیں جو تھوڑے سے پیسوں میں بھنگی کے ساتھ منہ کالا کرنے کو تیار ہیں معزز ڈاکٹر کے معائنہ سے کب شرمسار ہوسکتی ہیں۔ بے شک یہ افسوسناک امر ہے کہ عورتوں کی عفت کا مردوں کے ذریعہ امتحان کرایا جائے مگر کیا ہو سکتا ہے ان بے شرم بدذات عورتوں کیلئے جنہوں نے دنیا کی شرم کو بالائے طاق رکھ دیا ہے ۔ حق بات تو یہ ہے کہ قانون دکھائی کی ہندوستان میں سخت ضرورت ہے۔ جب یہ قانون جاری تھا تو ہر