آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 550

آریہ دھرم — Page 75

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۷۵ آریہ دھرم ایک بدکار عورت کو خوف ہوتا تھا کہ اگر وہ بخش پیشہ اختیار کرے گی تو اسے قانون دکھائی کی سخت آزمائش بھی برداشت کرنی پڑے گی بہت سی عورتیں اسی خوف کی وجہ سے اپنی زندگی خراب کرنے سے بچ رہتی تھیں۔ اس زمانہ میں جبکہ دکھائی کا طریق بند ہے مرض آتشک کے ادویات کے اشتہارات کثرت سے شائع ہوتے ہیں جو اس امر کا کافی ثبوت ہیں کہ ملک میں مرض آتشک بہت پھیلا ہوا ہے اول تو ہمیں اس خراب فرقہ کے وجود سے ہی سخت اختلاف ہے مگر ایسے زمانہ میں جبکہ اخلاق اور مذہب کی سخت کمزوری ہو رہی ہے یہ امید کرنا فضول ہے کہ یہ شیطانی فرقه نیست و نابود ہو جائے گا اس لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان کے لئے کوئی ایسا قانون بنایا جائے جس سے یہ اخلاق اور مذہب کو بگاڑنے کے علاوہ عوام کی صحت کو ہمیشہ کے لئے خراب کرنے کے قابل نہ رہ سکیں اور وہ قانون صرف قانون دکھائی ہی ہے۔ ہم نہایت شکر گزار ہوں گے اگر دوبارہ ہند میں قانون دکھائی جاری کیا جاوے گا۔ مگر یہ شرط ضرور ساتھ ہے کہ گورہ لوگوں کے لئے یورپین رنڈیاں بہم پہنچائی جاویں۔ یقین ہے کہ گورنمنٹ ہند اور معزز ہمعصران اس معاملہ پر ضرور توجہ اور غور فرمادیں گے۔ بید جن کو رسم نیوگ پیاری ہے دین و دنیا میں ان کی خواری ہے جس کے دین میں ہے ایسی بے شرمی عقل و تہذیب سے وہ عاری ہے جن کو آتی نہیں نیوگ سے عار ان کی شیطان نے عقل ماری ہے کی کھل گئی حقیقت کل اب تو ناحق کی پردہ داری ہے جس کے باعث یہ گندگی پھیلی وہ تو اک خبث کی پٹاری ہے دوسرا بیاہ کیوں حرام نہ ہو جبکہ رسم نیوگ جاری ہے کیوں نہ پوشیدہ ہو نیوگ کی رسم اس کے اظہار میں تو خواری ہے چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے خبیث اور بد رسم بید کے خادموں میں ساری ہے