آریہ دھرم — Page 73
۷۳ آریہ دھرم روحانی خزائن جلد ۱۰ جانے کی بھی شاید ممانعت تھی اس طریق سے ان کی صحت میں کسی قسم کا خلل واقع نہیں ہوتا تھا۔ نیز اس طریق کے بند ہونے کی وجہ سے اور بھی کئی ایسی وارداتیں ہوئی ہیں جن سے اہل ہند کی طرح طرف سے بہت ناراضی پھیلتی جاتی ہے جن میں سے میاں میر کا مقدمہ زنا بالجبر جو گورہ سپاہیوں کی طرف سے ایک بدصورت بڑھی اور اندھی عورت سے کیا گیا تھا قابل غور ہے ایسا ہی ایک واقعہ مدراس کے صوبہ میں ہوا جہاں ایک ریلوے پھاٹک کے چوکیدار نے ہندوستانی عورتوں کی عفت بچانے میں اپنی جان دے دی تھی اگر چندے گورے سپاہیوں کے لئے انتظام سرکاری طور پر نہ کیا گیا تو علاوہ اس کے کہ تمام فوج بیماری سے ناکارہ ہو جائے ملک میں بڑی بھاری بددلی پھیلنے کا اندیشہ ہے اور یہ دونوں امور قیام سلطنت کے لئے غیر مفید ہیں اس وقت جبکہ قانون دکھائی کو پھر جاری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ہمیں یہ ظاہر کر دینا بھی نہایت ضروری ہے کہ اگر اب پھر قانون مذکور جاری کیا جاوے تو گورنمنٹ ہند اور خصوصاً کمانڈرانچیف افواج ہند کو یہ بھی ضرور انتظام کرنا چاہئے کہ بجائے ہندوستانی عورتوں کے یورپین عورتیں ملازم رکھی جاویں کیونکہ قانون دکھائی کے متعلق ہندوستانی اور انگریز مخالفین کا سب سے بڑا اعتراض یہی تھا کہ ہندوستان کی غریب عورتوں کو دلالہ عورتوں کے ذریعہ سے اس فحش ملازمت کی ترغیب دی جاتی ہے اور بعض اوقات نہایت کمینہ فریبوں سے اچھے گھروں کی یتیم لڑکیوں کو اس پیشہ کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اور یہی وجہ تھی جس سے ہند کے بہت سے باشندگان نے قانون دکھائی کی منسوخی میں معمول سے بڑھ کر انٹرسٹ لیا تھا اور نہ کسی معمولی سمجھ کے آدمی کو بھی ان بد معاش عورتوں سے ہرگز ہمدردی نہیں ہو سکتی تھی۔ قانون دکھائی کے مکر راجراء کی کوشش محض اسی غرض سے کی جاتی ہے کہ گورہ سپاہیوں کی خواہش نفسانی کو پورا کرنے کے لئے سرکاری طور پر انتظام کیا جاوے ورنہ دیسی لوگوں کی بہتری کا اس میں ذرا بھی خیال نہیں اس لئے اگر مخالفین قانون مذکور کی دل جوئی گورنمنٹ کو منظور ہو تو یہی ایک طریق ہے جس سے بلا قانون مذکور کے جاری کرنے کے مقصد مطلوبہ حاصل ہو سکتا ہے اگر حسب تجویز ہماری کے یوروپین سپاہیوں کے لئے یوروپین عورتیں بہم پہنچائی جائیں تو ان سے مرض آتشک کا خدشہ نہیں رہ سکتا کیونکہ ایک تو یورپ میں مرض مذکور شاید ہوگا ہی نہیں دوم ان عورتوں کو بروقت بھرتی ہونے کے دایہ