انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 581

انوارالاسلام — Page 48

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۸ انوار الاسلام اے علمائے مکفرین ان آثار اور اخبار کی نسبت کیا کہتے ہو جن کو امام عبد الوہاب شعرانی اور دوسرے اکا بر متقدمین نے اپنی اپنی کتابوں میں مبسوط طور پر نقل کیا ہے ۔ جن میں سے کچھ حصہ مولوی صدیق حسن خان بھو پالوی نے اپنی فارسی کتابوں حجج الکرامہ وغیرہ میں بطور اختصار لکھا ہے کہ مہدی موعود کے چار نشان خاص ہیں جن میں اس کا غیر شریک نہیں۔ (۱) یہ کہ علما ء اس کی تکفیر کریں گے اور اس کا نام کا فر اور دجال اور بے ایمان رکھیں گے اور تمام مل کر اس کی تکذیب کریں گے اور اس کی تحقیر اور سب وشتم کے لئے کمر باندھیں گے اور اس کی نسبت نہایت سخت کینہ پیدا کریں گے اور اس کو ملحد اور مرتد خیال کریں گے اور اس کی نسبت مشہور کریں گے کہ یہ تو اسلام کی بیخ کنی کر رہا ہے یہ مہدی کیسا ہے۔ اور لعنت اور کافر کافر کہنے کو موجب ثواب اور اجر سمجھیں ۴۷ گے اور اس کو اس زمانہ کے مولوی ہرگز قبول نہیں کریں گے مگر آخری دنوں میں جب اس کی حقیقت کھل جائے گی محض نفاق سے مان لیں گے دل سے نہیں اور مہدی کو قبول کرنے والے اکثر عوام یا گوشہ گزیں یا پاک دل فقر ہوں گے جو اپنے صحیح مکاشفات سے اس کو شناخت کرلیں گے مگر مولویوں کو بجز اس کے اور کوئی حصہ نہیں ملے گا کہ اس کو بے دین اور کافر اور دجال کہیں گے۔ اور اس وقت کے مولوی ان سب سے بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہیں۔ ان کی زیر کی اور فراست جاتی رہے گی وہ عمیق باتوں کو سن کر فی الفور انکار کر دیں گے کہ یہ باتیں تو ہمارے قدیم عقائد کے مخالف ہیں۔ (۲) دوسرا نشان مهدی موعود کا یہ ہے کہ اس کے وقت میں ماہ رمضان میں خسوف کسوف ہوگا اور پہلے اُس سے جیسا کہ منطوق حدیث صاف بتلا رہا ہے بھی کسی رسول یا نبی یا محدث کے وقت میں خسوف کسوف کا اجتماع رمضان میں نہیں ہوا ۔ اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے۔ کسی مدعی رسالت یا نبوت یا محدثیت کے وقت میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے نہیں ہوئے ۔ اور اگر کوئی کہے کہ اکٹھے ہوئے ہیں تو بار ثبوت اس کے ذمہ ہے مگر حدیث کا مفہوم یہ نہیں کہ مہدی کے ظہور سے پہلے چاند گرہن اور سورج گرہن ماہ رمضان میں ہوگا کیونکہ اس صورت میں تو ممکنات میں سے تھا کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کو ماہ رمضان میں دیکھ کر چلا نوٹ : یہ کہنا بے جاہو گا کہ یہ احادیث ضعیف ہیں یا بعض روایات مجروح ہیں یا حدیث منقطع اور مرسل ہے۔ (۴۷) کیونکہ جس حدیث کی پیشگوئی واقعی طور پر بچی نکلی اس کا درجہ فی الحقیقت صحاح سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ اس کی صداقت بدیہی طور پر ظاہر ہوگئی۔ غرض جب حدیث کی پیشنگوئی بھی نکلی تو پھر بھی اس میں شک کرنا صریح بے ایمانی ہے۔