انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 581

انوارالاسلام — Page 49

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۹ انوار الاسلام ہر یک مفتری مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کرے اور امر مشتبہ ہو جائے کیونکہ بعد میں مدعی ہونا سہل ہے اور جب بعد میں کئی مدعی ظاہر ہو گئے تو صاف طور پر کوئی مصداق نہ رہا بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مہدی موعود کے دعوی کے بعد بلکہ ایک مدت گزرنے کے بعد یہ نشان تائید دعویٰ کے طور پر ظاہر ہو جيسا كه إنَّ لـمـهـديـنـا أيتين اى لتائيد دعوى مهدينا ايتان صاف دلالت کر رہی ہے اور اس طور سے کسی مفتری کی پیش رفت نہیں جاتی اور کوئی منصوبہ چل نہیں سکتا کیونکہ مہدی کا ظہور بہت پہلے ہو کر پھر مؤید دعوی کے طور پر سورج گرہن بھی ہو گیا نہ یہ کہ ان دونوں کو دیکھ کر مہدی نے سر نکالا ۔ اس قسم کے تائیدی نشان ہمارے سید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی پہلی کتابوں میں لکھے گئے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد ظہور میں آئے اور دعوئی کے مصدق اور مؤید ہوئے ۔ غرض ایسے نشان قبل از دعویٰ مہمل اور بے کار ہوتے ہیں کیونکہ ان میں گنجائش افترا بہت ہے ۔ اور اس پر اور بھی قرینہ ہے اور وہ یہ ہے کہ خسوفی اور کسوٹی اور مہدی کا رمضان کے مہینے میں موجود ہونا خارق عادت ہے اور صرف اجتماع خسوف کسوف خارق عادت نہیں۔ (۳) تیسرانشان مہدی موعود کا یہ ہے کہ اس کے وقت میں ایک فتنہ ہوگا۔ اور نصاری اور مہدی کے لوگوں کا ایک جھگڑا پڑ جائے گا۔ نصاری کے لئے شیطان آواز دے گا کہ الحق فی ال عیسی یعنی حق عیسی کے لوگوں میں ہے اور فتح عیسائیوں کی ہے۔ اور مہدی کے لوگوں کیلئے آسمانی آواز آئے گی یعنی نشانوں اور تائیدوں کے ساتھ ربانی گواہی یہ ہوگی کہ الحق فى ال محمد یعنی حق مہدی کے لوگوں میں ہے۔ آخر اس آواز کے بعد شیطانی تاریکی اٹھ جائے گی اور لوگ اپنے امام کو شناخت کرلیں گے۔ (۴) چوتھی مہدی کی یہ نشانی ہے کہ اس کے وقت میں بہت سے مسلمان یہودی طبع دجال سے مل جائیں گے یعنی وہ لوگ بظاہر مسلمان کہلائیں گے اور دجال کی ہاں کے ساتھ ہاں ملاویں گے یعنی نصاری کے دعوی فتح کے مصدق ہوں گے۔ یہ چار نشانیاں ایسی ہیں کہ مہدی کے لئے خاص ہیں اور اگر چہ اس زمانہ سے پہلے بھی بہت سے اہل اللہ اور بزرگوں کو کافر ٹھہرایا گیا مگر نشانی کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مہدی موعود کی اس زور و شور سے تکفیر کی جائے گی کہ اُس سے پہلے بھی مولویوں نے ایسے زور وشور سے کسی کی تکفیر نہیں کی ہوگی اور نہ کسی کو ایسے زور وشور سے دجال کہا ہوگا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس عاجز کو نہ