انوارالاسلام — Page 12
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۲ انوار الاسلام بشر طیکہ فطرتی فہم اور انصاف سے حصہ رکھتا ہو اور تعصب کی تاریکی کے نیچے دبا ہوا نہ ہو اور نہ عقل سے سے بے بہرہ ہو۔ اور مسلمان مخالفوں کو چاہیے جو خدا تعالیٰ سے ڈریں اور تعصب اور انکار میں دوسری قوموں کے شریک نہ بن جائیں کیونکہ دوسری قو میں خدا تعالیٰ کی سنتوں اور عادتوں سے نا واقف ہیں اور اس کے ابتلاؤں اور آزمائشوں سے بے خبر مگر اسلامی تعلیم پانے والے اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ کیونکر خدا تعالی پیشگوئیوں میں اپنی شرائط کی رعایت رکھتا ہے بلکہ بعض وقت خدا تعالیٰ ایسی شرائط کا بھی پابند ہوتا ہے جو پیشگوئیوں میں بتصریح بیان نہیں کی گئی تاکہ اپنے بندوں کی آزمائش کرے اور بعض وقت یہ آزمائش بہت ہی دقیق ہوتی ہے جو بظاہر عدم ایفاء وعدہ سے مشابہت رکھتی ہے۔ جیسا کہ اس بحث کو (۱۳) سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے اپنی کتاب فتوح الغیب کے انیسویں مقالہ صفحہ ۱۱۵، اور نیز دوسرے مقامات میں بیان کیا ہے اور شاہ ولی اللہ صاحب نے اپنی کتاب فیوض الحرمین کے صفحہ ہے میں اس بحث کو بہت بسط سے لکھا ہے۔ تحقیق کرنے والے ان مقامات کو دیکھیں اور غور کریں لیکن یہ پیشگوئی تو صریح فتح کے آثار اپنے ساتھ رکھتی ہے چاہیے کہ لوگ تعصب کو الگ کر کے سوچیں کہ کیا کیا آثار نمایاں اس پیشگوئی کے ظاہر ہو گئے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ فریق مخالف پر یعنی اس سارے گروہ پر جو جو حادثے پڑے وہ اتفاقی ہیں اور خدا تعالی کے ارادے کے بغیر ظاہر ہو گئے ہیں۔ اے مسلمانو ! برائے خدا اس میں غور کرو اور ان میں حصہ نہ لوجن کی آنکھیں تعصب سے جاتی رہیں جن کے دل مارے بخل کے موٹے ہو گئے ۔ ہماری پیشگوئی خدا تعالیٰ نے جہاں تک الہامی الفاظ اور شرائط اس کے ذمہ دار تھے بہت صفائی سے پوری کر دی ۔ اب وہ رسہ جو ہم نے دروغ گو نکلنے کی حالت میں اپنے لئے تجویز کیا تھا ان عیسائیوں کے گلے میں پڑ گیا جن پر یہ قضا و قدر نازل ہوئی اور اس رسہ کے وہ نادان بھی شریک ہیں جو سمجھنے والا دل نہیں رکھتے اور تعصب نے ان کو اندھا کر دیا۔ بے شک فتح اسلام ہوئی اور نصاری کو ہر طرف سے ذلت اور رسوائی پہنچی ۔ خدا تعالی کی آواز نے اس فتح کو روشن کر کے دکھا دیا اور آئندہ اور بھی اپنے فضل و کرم سے دکھائے گا مگر عیسائی لوگ شیطانی منصو بہ اور شیطانی آواز سے چاہتے ہیں کہ فتح کا دعوی کریں لیکن خدا ان کے مکر کو پاش پاش کر دے گا ضرور تھا کہ وہ ایسا دعویٰ کرتے کیونکہ آج سے تیرہ سو برس پہلے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے جس کا ماحصل اور مدعا یہ ہے کہ اس مہدی موعود