انوارالاسلام — Page 11
روحانی خزائن جلد ۹ 11 انوار الاسلام وہ عنقریب بعض تحریکات سے ظہور میں آجائے گی۔ خدا تعالیٰ کے تمام کام اعتدال اور رقم سے ہیں اور کینہ ور انسان کی طرح خواہ نخواہ جلد باز نہیں اور اس کی تلوار ڈرنے والے دل پر نہیں چلتی بلکہ سخت اور بے باک پر اور وہ اپنے لفظ لفظ کا پاس کرتا ہے۔ پس جس حالت میں الہامی عبارت میں مدعا یہ تھا کہ حق کی طرف کسی قدر جھکنے کی حالت میں موت وارد نہیں ہو سکتی بلکہ موت اسی حالت میں ہوگی کہ جب کہ بے باکی اور شوخی میں زیادتی کرے تو پھر کیونکر ممکن تھا کہ مسٹر عبد اللہ آتھم پر ایسے دنوں میں موت آجاتی جبکہ اس نے اپنے مضطر بانہ افعال سے ایک جہان کو دکھا دیا کہ عظمت اسلام اس کے دل پر سخت اثر کر رہی ہے اس بات میں کچھ بھی شک نہیں کہ جس دل پر اسلامی پیشگوئی کی عظمت بہت ہی غالب ہوگئی گو اس دل نے اپنی نفسانی تعلقات کی وجہ سے اپنے مذہب کو چھوڑنا نہ چاہا مگر بے شک اس کے دل نے حق کی تعظیم کر کے رجوع کرنے والوں میں اپنے تئیں شامل کر لیا بلکہ ایسا ڈرا کہ بہت سے عام مسلمان بھی ایسا نہیں ڈرتے غلبہ خوف نے اس کو سودائی سا بنا دیا سوخدا تعالیٰ کے کمال رحم نے بیداد فی فائدہ اس سے دریغ نہ کیا کہ ہاویہ کی کامل (1) سزا میں الہامی شرط کے موافق تاخیر ڈال دی گو ہاویہ کی سزا سے بچ نہ سکا مگر کامل سزا سے بچ گیا۔ جس قدر خدا تعالیٰ نے اس پر رعب ڈال دیا یہ وہ امر ہے جو اس زمانہ کے صفحہ تاریخ میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ اور ہم مکرر لکھتے ہیں کہ اس کا ثبوت اس نے اپنی خوف زدہ حالت سے آپ دے دیا اور اگر کوئی متعصب اب بھی شک کرے تو پھر دوسرا معیار وہی ہے جو کہ ہم لکھ چکے ہیں اور ہم زور سے کہتے ہیں کہ مسٹر عبد اللہ تم اس مقابلہ کی طرف رجوع نہیں کرے گا کیونکہ وہ اپنے دل کے حالات سے بے خبر نہیں اور اس کا دل گواہی دے گا کہ ہمارا الہام سچا ہے گو وہ اس بات کو ظاہر نہ کرے مگر اس کا دل اس بیان کا مصدق ہو گا لیکن اگر دنیا کی ریا کاری سے اس مقابلہ پر آئے گا تو پھر الہی عذاب کامل طور سے رجوع کرے گا اور ہم حق پر ہیں اور دنیا دیکھے گی کہ ہماری یہ باتیں صحیح ہیں یا نہیں اور ہم لکھ چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے یہ بھی دکھا دیا کہ فریق مخالف جو بحث کرنے والے یا ان کے حامی یا بانی کار یا مجوز تھے کوئی بھی ان میں سے مس عذاب سے نہیں بچا جیسا کہ ہم ابھی تفصیل کر چکے ہیں یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے مبارک وہ جو اس کے تمام پہلوؤں کو سوچیں اور اپنے نفسوں پر ظلم نہ کریں۔ ہم بے ثبوت کسی پر جبر کرنا نہیں چاہتے بلکہ یہ واقعات آفتاب کی طرح روشن ہیں اور ہم غور کرنے کے لئے سب کے آگے رکھتے ہیں اور اگر کوئی ایسا ہی اندھا ہو جو کچھ سمجھ نہ سکے تو ہم نے اس اشتہار میں اس کے لئے ایک ایسا معیار جدید مقرر کر دیا ہے جو بڑی صفائی سے اس کو مطمئن کر سکتا ہے