انوارالاسلام — Page 8
روحانی خزائن جلد ۹ عیسائیت نیچے گری۔ فالحمد للہ علی ذالک انوار الاسلام یہ تو مسٹر عبداللہ آتھم کا حال ہوا مگر اس کے باقی رفیق بھی جو فریق بحث کے لفظ میں داخل تھے اور جنگ مقدس کے مباحثہ سے تعلق رکھتے تھے خواہ وہ تعلق اعانت کا تھا یا بانی کار ہونے کا یا مجوز بحث یا حامی ہونے کا یا سرگروہ ہونے کا ان میں سے کوئی بھی اثر ہاویہ سے خالی نہ رہا اور ان سب نے میعاد کے اندر اپنی اپنی حالت کے موافق ہاویہ کا مزہ دیکھ لیا۔ چنانچہ اول خدا تعالیٰ نے پادری رائٹ کو لیا جو دراصل اپنے رتبہ اور منصب کے لحاظ سے اس جماعت کا سرگر وہ تھا اور وہ عین جوانی میں ایک ناگہانی موت سے اس جہان سے گذر گیا اور خدا تعالیٰ نے اس کی بے وقت موت سے ڈاکٹر مارٹین کلارک اور ایسا ہی اس کے دوسرے تمام دوستوں اور عزیزوں اور ماتحتوں کو سخت صدمہ پہنچایا اور ماتمی کپڑے پہنا دیے اور اس کی بے وقت موت نے ان کو ایسے دکھ اور درد میں ڈالا جو ہاویہ سے کم نہ تھا اور ایسا ہی پادری ہاول بھی ایسی سخت بیماری میں پڑا کہ ایک مدت کے بعد مر مر کے بیچا اور پادری عبد اللہ بھی سخت بیماریوں کے ہادیہ میں گرا اور معلوم نہیں کہ بچایا گذر گیا اور جہاں تک ہمیں علم ہے ان میں سے کوئی بھی ماتم اور مصیبت یا ذلت اور رسوائی سے خالی نہ رہا اور نہ صرف یہی بلکہ انہیں دنوں میں خدا تعالیٰ نے ایک خاص طور پر سخت ذلت اور رسوائی ان کو پہنچائی جس سے تمام ناک کٹ گئی اور وہ لوگ مسلمانوں کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے کیونکہ میں نے خدا تعالیٰ سے توفیق پا کر عیسائی پادریوں کی علمی قلعی کھولنے کے لئے اور اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے کہ قرآن اور اسلام پر حملہ کرنے کے لئے زبان دانی کی ضرورت ہے اور یہ لوگ زبان عربی سے بے بہرہ ہیں ۔ ایک کتاب جس کا نام نور الحق ہے عربی فصیح میں تالیف کی اور عمادالدین اور دوسرے تمام باقی پادریوں کو رجسٹری کرا کر خط بھیجے گئے کہ اگر عربی دانی کا دعوی ہے جو اسلامی مسائل میں خوض کرنے اور قرآنی فصاحت پر حملہ کرنے کے لئے ضروری ہے تو اس کتاب کے مقابل پر ایسا ہی عربی میں کتاب بناویں اور پانچ ہزار روپیہ انعام پاویں اور اگر انعام کے بارہ میں شک ہو تو پانچ ہزار روپیہ پہلے جمع کرا دیں اور یہ بھی لکھا گیا کہ اسلامی صداقت کا یہ خدا تعالیٰ فٹ نوٹ۔ پادری رائٹ صاحب کی وفات پر جو افسوس گرجا میں ظاہر کیا گیا اس میں عیسائیوں کی مضطر بانہ اور خوف زدہ حالت کا نظارہ مفصلہ ذیل الفاظ سے آئینہ دل میں منقش ہو سکتا ہے جو اس وقت پر بچر کے مرعوب اور مغضوب دل سے نکلے اور وہ یہ ہیں۔ آج رات خدا کے غضب کی لاٹھی بے وقت ہم پر چلی اور اس کی خفیہ تلوار نے بے خبری میں ہم کو قتل کیا و بس ۔ رائٹ صاحب امرتسر کے آنریری مشنری تھے اور علاوہ ازیں پادری فورمین لاہور میں مرے۔