انوارالاسلام — Page 9
روحانی خزائن جلد ۹ ۹ انوار الاسلام کی طرف سے ایک نشان ہے اگر اس کو توڑ دیں اور عربی میں ایسی کتاب بلیغ فصیح بناویں تو انعام مذکور بلا تامل ان کو ملے گا جس جگہ چاہیں اپنی تسلی کے لئے روپیہ جمع کرالیں اور بالمقابل کتاب بنانے کی حالت میں نہ صرف انعام بلکہ آئندہ تسلیم کیا جائے گا کہ در حقیقت وہ اپنے دعوے کے موافق مولوی ہیں اور ان کو حق پہنچتا ہے کہ قرآن شریف کی فصاحت بلاغت پر اعتراض کریں اور نیز وہ بالمتقابل کتاب بنانے سے ہمارے الہام کا کذب بھی بڑے سہل طریق سے ثابت کر دیں گے اور اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو پھر ثابت ہوگا کہ وہ جھوٹ اور افتراء سے اپنے تئیں مولوی نام رکھتے ہیں اور در حقیقت جاہل اور نادان ہیں اور نیز اس صورت میں وہ ہزار لعنت بھی ان پر پڑے گی جو رسالہ نور الحق کے چار صفحوں میں بلکہ کچھ (9) زیادہ میں صرف اس غرض سے لکھی گئی ہے کہ اگر یہ پادری لوگ بالمقابل رسالہ نہ بناسکیں اور نہ اپنے تئیں مولوی اور عربی دان کہلانے سے باز آویں اور نہ قرآن کی اعجازی فصاحت پر حملہ کرنے سے رکیں تو یہ ہزار لعنت ان پر قیامت تک ہے لیکن باوجود ان سخت لعنتوں کے جو مرنے سے کروڑہا درجہ بدتر ہیں پادری عمادالدین اور دوسرے تمام پنجاب اور ہندوستان کے عیسائی جو مولوی کہلاتے اور عربی دان ہونے کا دم مارتے تھے جواب لکھنے سے عاجز رہ گئے اور باوجود اس کے اپنے ناجائز حملوں سے باز نہ آئے بلکہ انہیں دنوں میں پادری عماد الدین نے شرم اور حیا کو علیحدہ رکھ کر قرآن شریف کا ترجمہ چھاپا اور اپنی طرف سے اس پر نوٹ لکھے اور اس ہزار لعنت کا پہلا وارث اپنے تئیں بنایا اور جیسا کہ مباحثہ کی پیشگوئی میں درج تھا کہ اس فریق کو سخت ذلت پہنچے گی جو عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنارہا ہے ویسا ہی وہ تمام ذلت اور رسوائی ان نادان پادریوں کے حصہ میں آئی اور آئندہ کسی کے آگے منہ دکھانے کے قابل نہ رہے اور ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ سب لوگ فریق بحث میں داخل اور مسٹر عبد اللہ آتھم سے معین اور حامی تھے بلکہ بحث کے بعد بھی یہ لوگ خیانت کے طور پر اخباروں کے کالم سیاہ کرتے رہے۔ اب دانا سوچ لے کہ ہر یک کو ہاویہ ان میں سے نصیب ہوایا کچھ کسر رہ گئی اور ہم اس جگہ ہر ایک دانا اور روشن دل کو انصاف کے لئے منصف بناتے ہیں کہ کیا اس قدر ذلت اور رسوائی ہادیہ کا نمونہ ہے یا نہیں اور کیا وہ ذلت جس کا الہامی عبارت میں وعدہ تھا اس سے یہ لوگ بیچ سکے یا پورا پورا حصہ لیا۔ یہ خدا کا فعل ہے کہ اس نے بعد پیشگوئی کے ہر ایک پہلو سے ان لوگوں کو ملزم کیا اور سب پر پیشگوئی کو جال کی طرح ڈال دیا بعض کو اسرائیلی قوم کے نافرمانوں کی طرح دن رات کے دھڑ کہ اور خوف اور ہول کے گڑھے میں دھکیل دیا جیسے مسٹر عبد اللہ آتھم