انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 581

انوارالاسلام — Page 7

روحانی خزائن جلد ۹ انوار الاسلام عذاب موت ملنے کا یہی باعث ہے کہ عبد اللہ آتھم نے حق کی عظمت کو اپنی خوف ناک حالت کی وجہ سے قبول کر کے ان لوگوں سے کسی درجہ پر مشابہت پیدا کر لی ہے جو حق کی طرف رجوع کرتے ہیں اس لئے ضرور تھا کہ ان کو کسی قدر اس شرط کا فائدہ ملتا اور اس امر کو وہ لوگ خوب سمجھ سکتے ہیں کہ جو ان کے حالات پر غور کریں اور ان کی تمام بے قراریوں کو ایک جگہ میزان دے کر دیکھیں کہ کہاں تک پہنچ گئی تھیں کیا وہ (۷) ہاد یہ تھا یا کچھ اور تھا اور اگر کوئی ناحق انکار کرے تو اس کے سمجھانے کے لئے وہ قطعی فیصلہ ہے جو میں نے لکھ دیا ہے تا سیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد ۔ ہم اپنے مخالفین کو یقین دلاتے ہیں کہ یہی سچ ہے ہاں یہی سچ ہے۔ اور ہم پھر مکر رلکھتے ہیں کہ ضرور مسٹرعبداللہ آتھم نے کسی قدر ہادیہ کی سزا بھگت لی ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ قطرب اور مانیا کے مقدمات بھی ان کے دماغ کو نصیب ہو گئے ہیں جن کی طرف الہام الہی کا ہم اشارہ پاتے ہیں اور جس کے نتائج عنقریب کھلیں گے کسی کے چھپانے سے چھپ نہیں سکتے پس اے حق کے طالبو یقینا سمجھو کہ ہادیہ میں گرنے کی پیشگوئی پوری ہوگئی اور اسلام کی فتح ہوئی اور عیسائیوں کو ذلت پہنچی۔ ہاں اگر مسٹر عبد اللہ آتھم اپنے پر جزع فزع کا اثر نہ ہونے دیتا اور اپنے افعال سے اپنی استقامت دکھاتا اور اپنے مرکز سے جگہ جگہ بھٹکتا نہ پھرتا اور اپنے دل پر وہم اور خوف اور پریشانی غالب نہ کرتا بلکہ اپنی معمولی خوشی اور استقلال میں ان تمام دنوں کو گذار تا تو بے شک کہہ سکتے تھے کہ وہ ہادیہ میں گرنے سے دور رہا مگر اب تو اس کی یہ مثال ہوئی کہ قیامت دید وام پیش از قیامت اس پر وہ غم کے پہاڑ پڑے جو اس نے اپنی تمام زندگی میں ان کی نظیر نہیں دیکھی تھی ۔ پس کیا یہ سچ نہیں کہ وہ ان تمام دنوں میں در حقیقت ہادیہ میں رہا اگر تم ایک طرف ہماری پیشگوئی کے الہامی الفاظ پڑھو اور ایک طرف اس کے ان مصائب کو جانچو جو اس پر وارد ہوئے تو تمہیں کچھ بھی اس بات میں شک نہیں رہے گا کہ وہ بے شک ہادیہ میں گرا ضرور گرا اور اس کے دل پر وہ رنج اور غم اور بدحواسی وارد ہوئی جس کو ہم آگ کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہہ سکتے ۔ ہاں اعلیٰ نتیجہ ہاویہ کا جو ہم نے سمجھا اور جو ہماری تشریحی عبارت میں درج ہے یعنی موت وہ ابھی تک حقیقی طور پر وارد نہیں ہوا کیونکہ اس نے عظمت اسلام کی ہیبت کو اپنے دل میں دھنسا کر الہی قانون کے موافق الہامی شرط سے فائدہ اٹھالیا مگر موت کے قریب قریب اس کی حالت پہنچ گئی اور وہ درد اور دکھ کے ہادیہ میں ضرور گرا اور ہادیہ میں گرنے کا لفظ اس پر صادق آگیا پس یقینا سمجھو کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور خدا تعالی کا ہاتھ بالا ہوا اور کلمہ اسلام اونچا ہوا اور