انوارالاسلام — Page xxi
اسلام کی عظمت میرے دل پر مؤثر نہیں ہوئی اور اگر مَیں جھوٹ کہتا ہوں تو اے قادر خدا ایک سال تک مجھ کو موت دے کر میرا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر۔‘‘ (ضیاء الحق۔رُوحانی خزائن جلد ۹صفحہ ۳۱۱،۳۱۲) نیز فرمایا:۔’’اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیویں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اوراگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفا کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہا۔‘‘ (۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۱۱۴) مزید براں آپؑ نے یہ بھی تحریر فرمایا:۔’’اگر تاریخ قسم سے ایک سال تک زندہ سالم رہا تو وہ اُس کا روپیہ ہو گا اور پھر اس کے بعد یہ تمام قومیں مجھ کو جو سزا چاہیں دیں۔اگر مجھ کو تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کریں تو مَیں عذر نہیں کروں گا۔اور اگر دنیا کی سزاؤں میں سے مجھ کو وہ سزا دیں جو سخت تر سزا ہے تو مَیں انکار نہیں کروں گا اور خود میرے لئے اِس سے زیادہ کوئی رسوائی نہیں ہو گی کہ میں اُن کی قسم کے بعد جس کی میرے ہی الہام پر بنا ہے جھوٹا نکلوں۔‘‘ (ضیاء الحق۔رُوحانی خزائن جلد ۹صفحہ ۳۱۶، ۳۱۷) مگر آتھم نے قسم کھانے سے گریز کی راہ اختیار کی اور قسم نہ اُٹھائی جس سے اُس کا جھوٹا ہونا اور اﷲ تعالیٰ کے الہام کی صداقت کہ آتھم نے رجوع بحق کیا اور اسی وجہ سے وہ موت کے ہاویہ سے بچ گیا دُنیا پر ظاہر ہو گئی۔اِس طرح آتھم سے متعلق پیشگوئی بڑی آب و تاب سے پوری ہوئی۔اِس پیشگوئی کو تفصیل سے ہم رُوحانی خزائن جلد گیارہ کے پیش لفظ میں ذکر کریں گے۔ان شاء اﷲ تعالٰی منن الرحمٰن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’علماء اسلام کو غفلت میں سوئے ہوئے اور اُن کی ہمدردئ دین اور اس کی خدمت سے عدم توجہی اور دنیا طلبی اور مخالفین کی دین اسلام کے مٹانے کے لئے