انوارالاسلام — Page xxii
مساعی اور ان کے حملوں کو دیکھ کر میرا دل بے قرار ہوا اور قریب تھا کہ جان نکل جاتی۔تب مَیں نے اﷲ تعالیٰ سے نہایت عاجزی اور تضرع سے دُعا کی کہ وہ میری نصرت فرمائے۔اﷲ تعالیٰ نے میری دُعا کو قبول فرمایا۔سو ایک دن جبکہ میں نہایت بے قراری کی حالت میں قرآن مجید کی آیات نہایت تدبّر اور فکر اور غور سے پڑھ رہا تھا اور اﷲ تعالیٰ سے دُعا کرتا تھا کہ مجھے معرفت کی راہ دکھاوے اور ظالموں پر میری حجت پوری کرے تو قرآن شریف کی ایک آیت میری آنکھوں کے سامنے چمکی اور غور کے بعد میں نے اُسے علوم کا خزانہ اور اسرار کا دفینہ پایا۔میں خوش ہوا اور الحمد ﷲ کہا اور اﷲ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور وہ آیت یہ تھی۔۱۔۔۔الخ اِس آیت کے متعلق مجھ پر کھولا گیا کہ یہ آیت عربی زبان کے فضائل پر دلالت کرتی ہے اور اشارہ کرتی ہے کہ عربی زبان تمام زبانوں کی اور قرآن مجید تمام پہلی کتابوں کی ماں ہے اور یہ کہ مکہ مکرمہ اُمّ الارضین ہے۔‘‘ (منن الرحمن۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۱۷۹تا۱۸۳ملخصًا ) اﷲ تعالیٰ کی اِس راہنمائی کے بعد آپؑ نے کتاب منن الرحمن لکھی اور اس کے متعلق آپؑ نے ایک اشتہار دیا جس میں آپؑ نے اِس کتاب کے متعلق لکھا:۔’’یہ ایک نہایت عجیب و غریب کتاب ہے جس کی طرف قرآن شریف کی بعض پُرحکمت آیات نے ہمیں توجہ دلائی سو قرآنِ عظیم نے یہ بھی دنیا پر ایک بھاری احسان کیا ہے جو اختلافِ لُغات کا اصل فلسفہ بیان کر دیا اور ہمیں اِس دقیق حکمت پر مطلع فرمایا کہ انسانی بولیاں کس منبع اور معدن سے نکلی ہیں اور کیسے وہ لوگ دھوکے میں رہے جنہوں نے اِس بات کو قبول نہ کیا جو انسانی بولی کی جڑھ خدا تعالیٰ کی تعلیم ہے اور واضح ہو کہ اِس کتاب میں تحقیق الالسنہ کی رُو سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا میں صرف قرآن شریف ایک ایسی کتاب ہے جو اس زبان میں نازل ہوا ہے جو اُمّ الالسنہ اور الہامی اور تمام بولیوں کا منبع اور سرچشمہ ہے۔‘‘ (ضیاء الحق۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۲۵۰) دوسرے لوگوں کی کوششوں کی ناکامی کا جو انہوں نے اپنی زبانوں کو اُمّ الالسنہ ثابت کرنے کے