انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xx of 581

انوارالاسلام — Page xx

اور استہزاء میں برابر کا حصّہ لیا اور پیشگوئی کے پورا نہ ہونے کا شور مچایا اور اس پر اعتراضات کئے۔گندے اور گالیوں سے پُر دل آزار اشتہارات نکالے اور حد درجہ بد زبانی سے کام لیا۔تب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان مکفّر ملاّؤں کو ترکی بہ ترکی جواب دیا اور اُن کی اسلام دشمنی کا اِن الفاظ میں تذکرہ فرمایا:۔’’بعض نام کے مسلمان جن کو نیم عیسائی کہنا چاہئے اِس بات پر بہت خوش ہوئے کہ عبداﷲ آتھم پندر ماہ تک نہیں مر سکا اور مارے خوشی کے صبر نہ کر سکے آخر اشتہار نکالے اور اپنی عادت کے موافق بہت کچھ اُن میں گند بکا اور اس ذاتی بخل کی وجہ سے جو میرے ساتھ تھا اسلام پر بھی حملہ کیا کیونکہ میرے مباحثات اسلام کی تائید میں تھے نہ میرے مسیح موعود ہونے کی بحث میں غایت درجہ میں اُن کے خیال میں کافر تھا یا شیطان تھا یا دجّال تھا لیکن بحث تو جناب رسول اﷲ صلعم کی صداقت اور قرآن کریم کی فضیلت کے بارہ میں تھی۔‘‘ (انوار الاسلام۔رُوحانی خزائن جلد۹ صفحہ۲۴) الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پندرہ ماہ کی میعاد گذرتے ہی ۵؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کو رسالہ انوار الاسلام تحریر فرمایا اور مئی ۱۸۹۵ء میں اِسی موضوع پر رسالہ ضیاء الحق تالیف فرمایا جن میں اِس پیشگوئی کے پورا ہونے کا تفصیل سے ذکر فرمایا اور لکھا:۔’’ خدا تعالیٰ کے الہام نے مجھے جتلا دیا کہ ڈپٹی عبداللہ آتھم نے اسلام کی عظمت اور اُس کے رعب کو تسلیم کر کے حق کی طرف رجوع کرنے کا کسِی قدر حصہ لے لیا جس حصّہ نے اُس کے وعدۂ موت اور کامل طور کے ہاویہ میں تاخیر ڈال دی اور ہاویہ میں تو گرا لیکن اس بڑے ہاویہ سے تھوڑے دنوں کے لئے بچ گیاجس کا نام موت ہے ‘‘ (۔رُوحانی خزائن جلد ۹صفحہ ۲) اور آتھم کے رجوع سے متعلق جو الہامات ہوئے تھے وہ اس رسالہ میں تحریر فرمائے اور قرائن قویّہ سے آتھم کے رجوع بحق ہونے کو ثابت کیا۔پھر آپ نے چار اشتہار پے در پے شائع کئے جن میں آپ نے اِس شرط پر کہ اگر آتھم مندرجہ ذیل الفاظ میں قسم کھا جائے تو اُس کو ایک ہزار روپیہ دیا جائے گا۔پھر دوسرے اشتہار میں اِس انعامی رقم کو دو ہزار اور تیسرے اشتہار میں تین ہزار اور چوتھے اشتہار میں چار ہزار روپیہ کر دیا۔اور قسم کے الفاظ یہ تھے کہ:۔’’پیشگوئی کے دنوں میں ہرگز میں نے اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا اور ہرگز