انوارالاسلام — Page 102
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۰۲ انوار الاسلام شتر کا احتمال نہیں پیدا کرتے تھے اور دوسری طرف پیشگوئی کے پورے ہونے کا احتمال آتھم صاحب کی نظر میں کئی وجوہ سے قوی تھا کیونکہ وہ احمد بیگ کی موت کی پیشگوئی کا (۴) پورا ہونا مجھ سے سن چکے تھے اور اس پیشگوئی کی کیفیت میرے اشتہارات اور پر چہ نور افشاں میں پڑھ چکے تھے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ ان کی نسبت پیشگوئی جس قوت اور شوکت اور پر زور دعوی سے بیان کی گئی وہ بھی ان کو معلوم تھا تو اب ظاہر ہے کہ یہ تمام باتیں مل کر ایسے دل پر قومی اثر ڈالتی ہیں جو تازہ بتازہ نمونہ بقیه نوٹ : جو سرکشی اور بے باکی کی حالت میں ہوئی تھی وہ اطاعت اور خوف کی حالت میں قائم رہے اور اطاعت اور خوف کی حالت کے موافق کوئی پر رحم امر صادر نہ ہو۔ منہ ا حاشیہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری اور اس کے داماد کی نسبت ایک ہی پیشگوئی تھی اور احمد بیگ کی نسبت جو ایک حصہ پیشگوئی کا تھا وہ نور افشاں میں بھی شائع ہو چکا تھا۔ غرض احمد بیگ میعاد کے اندر فوت ہو گیا اور اس کا فوت ہونا اس کے داماد اور تمام عزیزوں کیلئے سخت ہم وغم کا موجب ہوا چنانچہ ان لوگوں کی طرف سے تو بہ اور رجوع کے خط اور پیغام بھی آئے جیسا کہ ہم نے اشتہا ر۶ اکتوبر ۱۸۹۴ء میں جو غلطی سے ۶ ستمبر ۱۸۹۴ء لکھا گیا ہے مفصل ذکر کر دیا ہے پس اس دوسرے حصہ یعنی احمد بیگ کے داماد کی وفات کے بارے میں سنت اللہ کے موافق تاخیر ڈالی گئی جیسا کہ ہم بار بار بیان کر چکے ہیں کہ انڈار اور تخویف کی پیشگویوں میں سہی سنت اللہ ہے کیونکہ خدا کریم ہے اور وعید کی تاریخ کو تو بہ اور رجوع کو دیکھ کر کسی دوسرے وقت پر ڈال دیتا کرم ہے اور چونکہ اس از لی وعدہ کی رو سے یہ تاخیر خدائے کریم کی ایک سنت ٹھہر گئی ہے جو اس کی تمام پاک کتابوں میں موجود ہے اس لئے اس کا نام تخلف وعدہ نہیں بلکہ ایفا ء وعدہ ہے کیونکہ سنت اللہ کا وعدہ اس سے پورا ہوتا ہے بلکہ متخلف وعد ہ اس صورت میں ہوتا کہ جب سنت اللہ کا عظیم الشان و عدہ ٹال دیا جاتا مگر ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ اس صورت میں خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں کا باطل ہونا لازم آتا ہے ۔ منہ نوٹ : احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پروانہ کی خط پر خط بھیجے گئے ان سے کچھ نہ ڈرا۔ پیغام بھیج کر سمجھایا گیا کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک تعلق (باقی اگلے صفحہ پر )