انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 581

انوارالاسلام — Page 103

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۰۳ انوار الاسلام دیکھ چکا ہے پس جبکہ ایک طرف خوف اور ڈر کے یہ اسباب موجود ہوں اور دوسری طرف خود اقرار ہو کہ میں ایام پیشگوئی میں ضرور ڈرتا رہا۔ پس کیا اب تک وہ اس مطالبہ کے نیچے نہیں آسکے کہ ہمیں وہ قسم کھا کر مطمئن کریں کہ اس قسم کا ڈر جس کے اسباب اور محرک اور نمونے ان کی نظر کے سامنے موجود تھے وہ ہرگز ان کے دل پر غالب نہیں ہوا بلکہ ان تلواروں اور برچھیوں نے ان کو ڈرایا جن کا خارج میں کچھ بھی وجود نہ تھا۔ بہر حال اس دعوی کا بار ثبوت ان کی گردن پر ہے کہ یہ جان کا خوف جس کا وہ کئی دفعہ اقرار کر چکے اسلامی عظمت کے اثر اور پیشگوئی کے رعب سے نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے تھا لیکن افسوس کہ آتھم صاحب نے باوجود تین اشتہار جاری ہونے کے اب تک اس طرف توجہ نہیں کی اور اپنی بریت ظاہر کرنے کے لئے اس اطمینان بخش طریق کو اختیار نہیں کیا جس سے مجھے حق دار مطالبہ کی تسلی ہوسکتی کیا اس میں کچھ شک ہے کہ مجھے بے جا الزام لگانے کی وجہ سے قانوناً وانصافأوعرفاً حق طلب ثبوت حاصل ہے اور کیا اس میں کچھ شبہ ہے کہ اس بات کا بار ثبوت ان کے ذمہ ہے کہ وہ کیوں پندرہ مہینہ تک ڈرتے رہے اور میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ ڈرنے کی ثابت شدہ وجوہات میرے الہام کی صریح مؤید ہیں کیونکہ پیشگوئی کی شوکت اور قوت میرے پر زور الفاظ سے ان کے دل میں جم چکی تھی اور پیشگوئی کی صداقت کا نمونہ مرزا احمد بیگ کی موت تھی جس کی سچائی ان پر بخوبی کھل چکی تھی لیکن تلواروں سے قتل کئے جانے کا کوئی نمونہ ان کی نظر کے سامنے نہ تھا سو تھم بقیه نوٹ : نہ چاہا بلکہ وہ سب گستاخی اور استہزا میں شریک ہوئے سو یہی قصور تھا کہ پیشگوئی کوسن کر پھر ناطہ کرنے پر راضی ہوئے اور شیخ بٹالوی کا یہ کہنا کہ نکاح کے بعد طلاق کیلئے ان کو فہمالیش کی گئی تھی ۔ یہ سراسر افترا ہے بلکہ ابھی تو ان کا ناطہ بھی نہیں ہو چکا تھا جبکہ ان کو حقیقت سے اطلاع دی گئی تھی اور اشتہار تو کئی برس پہلے شائع ہو چکے تھے ۔ منہ