انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 448

انجام آتھم — Page 50

روحانی خزائن جلداا رساله دعوت قوم ۵۰ اور مواعید کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ کیا ان کے پاس حدیث یا قرآن شریف سے کوئی نظیر موجود ہے کہ ایک ایسے خبیث طبع مفتری کو خدا تعالیٰ نہ پکڑے جو اس پر افترا پر افترا باندھے اور جھوٹے الہام بنا کر اپنے تئیں خدا کا نہایت ہی پیارا ظاہر کرے اور محض اپنے دل سے شیطانی باتیں تراش کر اس کو عمد أخدا کی وحی قرار د یوے اور کہے کہ خدا کا حکم ہے کہ لوگ میری پیروی کریں اور کہے کہ خدا مجھے اپنے الہام میں فرماتا ہے کہ تو اس زمانہ میں تمام مومنوں کا سردار ہے حالانکہ اس کو بھی الہام نہ ہوا ہو اور نہ کبھی خدا نے اس کو مومنوں کا سردار ٹھہرایا ہو اور کہے کہ مجھے خدا مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تو ہی مسیح موعود ہے جس کو میں کسر صلیب کے لئے بھیجتا ہوں۔ حالانکہ خدا نے کوئی ایسا حکم اس کو نہیں دیا اور نہ اس کا نام عیسی رکھا اور کہے کہ خدائے تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ مجھ سے تو ایسا ہے جیسا کہ میری توحید ۔ تیرا مقام قرب مجھ سے وہ ہے جس سے لوگ بے خبر ہیں۔ حالانکہ خدا اس کو مفتری جانتا ہے۔ اس پر لعنت بھیجتا ہے اور مردودوں اور مخذولوں کے ساتھ اس کا حصہ قرار دیتا ہے۔ پھر کیا یہی خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے کذاب اور بیباک مفتری کو جلد نہ پکڑے۔ یہاں تک کہ اس افترا پر مبین برس سے زیادہ عرصہ گزر جائے ۔ کون اس کو قبول کر سکتا ہے کہ وہ پاک ذات جس کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ ہمیشہ جھوٹے مہموں کو بہت جلد کھاتی رہی ہے اس لمبے عرصہ تک اس جھوٹے کو چھوڑ دے جس کی نظیر دنیا کے صفحہ میں مل ہی نہیں سکتی۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا یعنی اس سے زیادہ تر ظالم اور کون ہے جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باند ھے۔ بیشک مفتری خدا تعالیٰ کی لعنت کے نیچے ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ پر افترا کرنے والا جلد مارا جاتا ہے۔ سو ایک تقومی شعار آدمی کیلئے یہ کافی تھا کہ خدا نے مجھے مفتریوں کی طرح ہلاک نہیں کیا بلکہ میرے ظاہر اور میرے باطن اور میرے جسم اور میری روح پر وہ احسان کئے جن کو میں شمار نہیں کر سکتا۔ میں جوان تھا جب خدا کی وحی اور الہام کا دعوی کیا اور اب میں بوڑھا ہو گیا اور ابتداء دعوئی پر بیس برس سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا۔ بہت سے میرے دوست اور عزیز جو مجھے سے چھوٹے تھے فوت ہو گئے اور مجھے اس نے عمر در از بخشی اور ہر یک مشکل میں میرا متکفل اور متوئی رہا۔ پس کیا ان لوگوں کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ پر افترا باندھتے الانعام :۲۲