انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 448

انجام آتھم — Page 30

روحانی خزائن جلداا ۳۰ انجام آتھم (۳۰) اول درجہ کی رسائی رکھتے تھے ۔ پھر بھی اس کا دل اس بات پر مطمئن نہ ہو سکا کہ وہ ایسی نالش کے بعد پھر بیچ کر اپنے گھر میں آجائے گا۔ اگر رؤیت کی شہادتوں سے یہ ثابت کرنا آتھم کو میسر آ سکتا که در حقیقت یہ ناجائز حملے ہوئے تو کم سے کم وہ اخباروں کے ذریعہ سے اس ثبوت کو پبلک پر ظاہر کرتا۔ کیونکہ اس کامیابی کے اندر عیسائیوں کا بڑا مدعا بھرا ہوا تھا وجہ یہ کہ اس کا عام نتیجہ یہ تھا کہ ہما را کا ذب اور مفتری ہونا ہر ایک پر کھل جاتا اور کم سے کم یہ کہ ہمارے چال چلن کی نسبت ہر ایک کو قوی شبہ پیدا ہو جاتا اور صفحات تاریخ میں ہمیشہ یہ واقعہ قابل ذکر سمجھا جاتا اس امر میں کس کا اطمینان ہوسکتا ہے کہ آتھم نے ان بہتانوں کو پیش کر کے اور پھر ثبوت دینے سے روگردان ہو کر بے ایمانی اور دروغ گوئی کی راہ کو اختیار نہیں کیا۔ کا خدائے تعالی کی پاک کتابوں پر اعتراض ہے۔ ہمارے اشتہار چہارم کو پڑھو جس کے ساتھ چار ہزار روپیہ کا انعام ہے تا معلوم ہو کہ کیونکر خدائے تعالیٰ نے یونس بی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں تھی ۔ جیسا کہ تفسیر کبیر صفحه ۱۶۴ اور امام سیوطی کی تفسیر در منثور میں احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے۔ دیکھو اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ صفحہ ۱ ۔ اور یونہ یعنی یونس نبی کی کتاب میں جو بائیل میں موجود ہے۔ باب ۳ آیت ۴ میں لکھا ہے۔ اور یو نہ شہر میں یعنی نینو ہ میں داخل ہونے لگا اور ایک دن کی راہ جا کے منادی کی اور کہا چالیس اور دن ہوں گے تب نیوہ بر باد کیا جائے گا۔ تب نینوں کے باشندوں نے خدا پر اعتقاد کیا اور روزہ کی منادی کی اور سب نے چھوٹے بڑے تک ٹاٹ پہنا اور خدا نے ان کے کاموں کو دیکھا کہ وہ اپنی ٹیر کی راہ سے باز آئے۔ تب خدا اس بدی سے کہ اس نے کہی تھی پچھتا کے باز آیا اور اس نے ان سے وہ بدی نہ کی ۔ بابے ۔ پر یو نہ اس سے نا خوش ہوا اور نپٹ رنجیدہ ہو گیا ۔ ۲۔ اور اس نے خداوند کے آگے دعا مانگی ۔۳۔ اب اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ میری جان کو مجھ سے لے لے۔ کیونکہ میرا مرنا میرے جینے سے بہتر ہے ۔ اور در منثور میں ابن عباس سے یہ روایت ہے۔ اوحى الله الى يونس اني مرسل عليهم العذاب فـي يـوم كذا وكذا۔ فعجوا الى الله وانابوا فاقالهم الله وأَخَّر عنهم العَذَاب۔ فقال يونس لا ارجع اليهم كذابًا ومضى على وجهه - یعنی خدا نے یونس پر یہ وحی نازل کی کہ فلاں تاریخ میں عذاب نازل کروں گا۔ سو ان لوگوں نے خدا کی طرف تضرع کی اور رجوع کیا۔ سوخدا نے ان کو معاف کر دیا اور کسی دوسرے وقت پر عذاب ڈال دیا۔ تب یونس کہنے لگا