انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 448

انجام آتھم — Page 31

روحانی خزائن جلداا ۳۱ انجام آتھم اگر اب بھی عیسائی باز نہ آویں تو بہتر ہے کہ ہم اور ان کے چند سرگروہ مباہلہ کے طور پر ۳۱ کے میدان میں آ کر خدا کے انصاف سے فتویٰ لے لیں جھوٹے پر بغیر تعین کسی فریق کے لعنت کرنا کسی مذہب میں ناجائز نہیں۔ نہ ہم میں نہ عیسائیوں میں نہ یہودیوں میں ۔ یہی وجہ ہے کہ پادری وایٹ بریخت شملہ جانے سے کچھ عرصہ پہلے چند اپنے عیسائیوں کے ساتھ قادیان میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ آتھم نہیں مرا۔ میں نے کہا کہ اس نے اسلامی پیشگوئی سے ڈر کر پیشگوئی کی شرط سے فائدہ اٹھایا اور خود اقرار کیا کہ میں ڈرتا رہا اور ان حملوں کا ثبوت نہ دے سکا جو ڈرنے کی وجہ ٹھہرائی ۔ وایٹ نے کہا کہ لعنت اللہ علی الکاذبین یعنی جھوٹوں پر لعنت ہو ۔ میں نے کہا کہ بیشک جھوٹوں پر لعنت وارد ہوگی ۔ اگر آتھم جھوٹا ہے یا میں تو خدا اس کا فیصلہ کر دے گا۔ چنانچہ تھوڑے عرصہ کے بعد اس لعنت کا اثر آتھم پر وارد ہو گیا کہ اب میں کذاب کہلا کر اپنی قوم کی طرف واپس نہیں جاؤں گا اور دوسری راہ لی ۔ دیکھ تفسیر در منثور تحت تفسیر آیت مُغَاضبات اور دیکھو صفحہ ۱۴اشتہار چہارم انعامی چار ہزار روپیہ۔ ہم اس جگہ حضرت مولوی احمد حسن صاحب کو ہی منصف ٹھہراتے ہیں کہ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا یہ الہام جھوٹا نکلا اور نعوذ باللہ یونس کذاب تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا علم اکثر لوگوں سے جاتا رہا ہے۔ اور بظا ہر اہل حدیث بھی کہلاتے ہیں مگر حدیثوں کے مغر سے ناواقف ہیں۔ ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ انہیں قصوں کے لحاظ سے اہل سنت کا یہ عام عقیدہ ہے کہ وعید کی میعاد کی تاخیر کسی سب تو بہ یا خوف کی وجہ سے جائز ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ مسلمان کہلا کر اور ان احادیث کو پڑھ کر پھر اس پیشگوئی کی تکذیب کی جائے جو یونس کی پیشگوئی سے ہم شکل ہے اور ایسے امور میں اس عاجز کو کا ذب ٹھہرایا جائے جن میں دوسرے انبیاء بھی شریک ہیں۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشنگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدائے تعالی ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کر دے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا بھی دخل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ بائبل کی بعض پیشگوئیوں میں دنوں کے سال بنائے گئے ہیں جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ ذرا شرم کرنی چاہیے کہ جس حالت میں خود احمد بیگ اسی پیشگوئی کے مطابق میعاد کے اندر فوت ہو گیا اور وہ پیشگوئی کے اول نمبر پر تھا تو پھر اگر خدا کا خوف ہو تو اس پیشگوئی کے نفس مفہوم میں شک نہ کیا جاوے کیونکہ ایک وقوع یافتہ امر کی یہ دوسری جز ہے جس حالت میں خدا اور رسول الانبياء: ۸۸