انجام آتھم — Page 29
روحانی خزائن جلداا ۲۹ انجام آنقم بلکہ اس نے امور واقعہ کی طرف نظر کر کے یہ امر صاف دیکھا کہ ان دونوں کارروائیوں میں (۲۹) سے کوئی کارروائی بھی اس کے لئے مبارک نہیں ہوگی اور انجام بد ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اپنے تئیں عیسائی کہلانا اس کی عملی حالت سے اخیر دم تک متناقض رہا۔ اس کے رفیق پادری اور ڈاکٹر کلارک سر پیٹ پیٹ کر تھک گئے مگر اس نے نہ چاہا کہ ان دعاوی کو عدالت کے ذریعہ سے ثابت کر اوے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایسے بڑے بہتان پیشتر اس کے کہ وہ صحیح سمجھے جاویں طبعی طور پر پختہ ثبوت کے واسطے تقاضا پیدا کرتے ہیں اور در حالت عدم ثبوت عدالتیں فریق ثانی کو انتظامی استغاثہ کی اجازت دیتی ہیں۔ سو سوچنا چاہئے کہ وہ کس قدر اپنے اس بہتان اور جھوٹ سے ہراساں اور ترساں تھا کہ باوجود یکہ اس کے داماد بڑی بڑی حکومت کے عہدوں پر معزز تھے اور اس کے عیسائی دوست گورنمنٹ میں کے مطابق اس کی موت ہوئی ۔ اور اس پیشگوئی میں دو پہلو تھے ۔ سو اپنے دونوں پہلوؤں کے رو سے یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ ہم کسی متعصب بے حیا کا منہ بند تو نہیں کر سکتے اور نہ ہم سے پہلے کوئی نبی یا رسول بند کر سکا۔ لیکن ایک منتقلی کے لئے اس پیشگوئی کی صداقت لکھنے میں کچھ بھی مشکلات نہیں چنانچہ ہم اسی رسالہ اور پہلے رسائل میں بھی بہت کچھ بیان کر چکے ہیں ۔ باقی رہی احمد بیگ کی موت اور اس کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی سواحمد بیگ تو پیشگوئی کی میعاد کے اندرفوت ہو گیا ۔ جس سے ہمارے کسی مخالف کو انکار نہیں گویا پیشگوئی کی دوٹانگوں میں سے ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ۔ رہا داماد اُس کا۔ سو وہ اپنے رفیق اور خسر کی موت کے حادثہ سے اس قدر خوف سے بھر گیا تھا کہ گو یا قبل از موت مر گیا۔ اور اس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ جب ایک ہی پیشگوئی دو شخص کی موت کی خبر دیوے اور ایک ان میں سے مر جائے تو دوسرے پر اس موت کا طبعاً وفطر تا اثر پڑ جاتا ہے ۔ سو اس جگہ ایسا ہی ہوا۔ لہذ ا سنت اللہ کے موافق جس کا ذکر ہم بار بار لکھ چکے ہیں اس وعید کی میعاد میں تخلف ہو گیا۔ ہم اپنے پہلے اشتہاروں میں ان بعض خطوط کا ذکر کر چکے ہیں جو ان لوگوں کی طرف سے ہمیں پہنچے جن میں تو بہ اور خوف و رجوع کا اقرار تھا۔ پھر اگر یہ امر قرآن اور توریت کی رو سے صحیح نہیں ہے کہ وعید کی پیشگوئی کی میعاد کا تختلف جائز ہے تو ہر ایک معترض کا اعتراض بجا اور درست ہے لیکن اگر قرآن اور توریت کی رو سے یہی امر بتواتر ثابت ہوتا ہے کہ وعید کی میعا دتو بہ اور خوف سے مل سکتی ہے تو سخت بے ایمانی ہوگی کہ کوئی شخص مسلمان کہلا کر یا عیسائی کہلا کر پھر ایسی بات پر اعتراض کرے جو قرآن شریف اور پہلی آسمانی کتابوں سے ثابت ہے اس صورت میں ایسا شخص ہم پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ ایسے نالائق